نثار کھوکھر بی بی سی اردو ڈاٹ کام سکھر |  |
 | | | نثار سولنگی کی ہلاکت پر سکھر میں صحافیوں کا احتجاج |
سندھ کے ضلع خیرپور میں پیر پگارو کے آبائی گاؤں پیر جو گوٹھ میں صحافی نثار سولنگی کی ہلاکت پر سکھر سمیت مختلف شہروں میں احتجاج کیا گیا ہے۔ چالیس سالہ صحافی نثار سولنگی خیرپور ضلع کے تحصیل پیر جو گوٹھ میں روزنامہ خبروں کے نامہ نگار و اخباری ایجنٹ تھے۔ ایک اور واقعہ میں بالائی سندھ میں قبائلی تنازعات کے دوران ایک اور صحافی اسحاق مہر کو بھی سترہ جون کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اسحاق مہر کو شکارپور ضلع کے لکھی غلام شاہ علاقے میں برسوں سے جاری مہر جتوئی قبائلی تنازع کے دوران قتل کیا گیا۔ قبائلی تنازعات میں ایک ہفتے کے دوران بالائی سندہ میں دو صحافیوں،ایک چار سالہ بچے اور تین عورتوں سمیت نو لوگوں قتل کیا گیا ہے۔ سکھر پریس کلب کے سامنے پیر جو گوٹھ اور سکھر کے صحافیوں نے مشترکہ احتجاج کیا۔ مظاہرین نے سندھ پولیس سے مطالبہ کیا کہ نثار سولنگی کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ مقتول صحافی کا سوئم پیر جو گوٹھ کے قریب گاؤں وڈا ماچھیوں میں ہوا۔ نثار سولنگی کے بڑے بھائی دیدار سولنگی نے بی بی سی کو بتایاکہ ان کے بھائی حسب معمول سترہ جون کی صبح پانچ بجے اخبارات ہاکروں میں تقسیم کرنے گئےتو انہیں گھات لگا کر قتل کردیا گیا۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ نثار سولنگی کو علاقے میں جاری سولنگی جونیجا قبائلی تنازع میں قتل کیا گیا ہے۔
 | | | صحافی نثار سولنگی (فائل فوٹو) |
نثار سولنگی کے قتل کی ایف آئی آر علاقے کے ڈاکو ہادی بخش عرف ہادو جونیجو سمیت چھ جونیجو افراد کے خلاف درج کی گئی ہے۔ مقتول صحافی نثار سولنگی نے سوگواروں میں ایک بیوہ، چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں چھوڑیں ہیں۔خیرپور و شکار میں ابھی تک نثار سولنگی اور اسحاق مہر کے قتل کے مقدمات میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی۔ |