’صحافی کی موت غفلت سے ہوئی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام آباد کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال ’پمز‘ کی انتظامیہ نے ایک ڈاکٹر کو معطل کر کے ان کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ مذکورہ ڈاکٹر نے مبینہ طور پرایک صحافی کے علاج میں غفلت برتی جس سے صحافی کی موت واقع ہو گئی۔ ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر فضلِ ہادی نے سنیچر کو بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جو آٹھ سے دس روز میں مکمل ہو جائے گی جس کے بعد مزید کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک ڈاکٹر کا غفلت برتنا ثابت نہیں ہوا اور اس بارے میں جانچ کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ شعبہ امراض قلب کے ایک ڈاکٹر کو اس لیے معطل کیا ہے تاکہ وہ انکوائری پر اثر انداز نہ ہوسکیں۔ ہسپتال کی انتطامیہ کا کہنا ہے کہ پندرہ نومبر کو اردو روزنامہ ’اوصاف‘ کے سب ایڈیٹر محمد مسکین کو اپنا ایک ساتھی ایمرجنسی میں لایا اور انہوں نے سینے میں درد کی شکایت کی۔ ان کے مطابق جب ان کی ای سی جی ہوئی تو ان کے علاج کے لیے متعلقہ شعبے کے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کو طلب کیا گیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس دوران صحافی ایمرجنسی میں اپنے بستر پر رہنے کے بجائے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے دفتر کی جانب چلے گئے۔ ان کے لیے وہیل چیئر کا بندوبست کیا جا رہا تھا لیکن وہ اس کا انتظار کیئے بغیر سیڑھیاں چڑھ کر دل کے امراض کے شعبہ ( کارڈیک کیئر یونٹ) میں پہنچے جہاں متعلقہ ڈاکٹر ایک دوسرے مریض کے علاج میں مصروف تھا۔ ڈاکٹر نے ان کی رپورٹ دیکھنے کے بعد انہیں ایمرجنسی وارڈ میں بھیجا کیونکہ شعبہ امراض قلب میں بستر دستیاب نہیں تھا۔ مریض صحافی جیسے ہی ایمرجنسی وارڈ پہنچے توگر پڑے، جس پر وہاں موجود ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی کوشش کی لیکن وہ جانبر نہیں ہوسکے۔ اوصاف اخبار کے ڈپٹی ایڈیٹر اور صحافیوں کی ایک تنظیم کے رہنما سی آر شمسی ہسپتال انتظامیہ کی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر ای سی جی رپورٹ دیکھنے کے بعد صحافی کو کہتے رہے کہ وہ ٹھیک ہیں اور ایمرجنسی نہیں ہے وہ دوائیاں لے کر چلے جائیں۔ ان کے مطابق صحافی سینے میں درد کی شکایت کرتا رہا اور ڈاکٹر انہیں کبھی شعبہ امراض قلب تو کبھی ایمرجنسی جانے کا کہتے رہے اور اس دوران ان کی موت واقع ہوگئی۔ شمسی نے الزام لگایا کہ صحافی کی موت ڈاکٹروں کی غفلت اور لاپروائی کی وجہ سے واقع ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں اسلام آباد میں سینئر صحافی قتل01 November, 2006 | پاکستان صحافی کو بے قصور قرار دیدیا گیا17 October, 2006 | پاکستان کراچی سے بلوچ صحافی لاپتہ21 September, 2006 | پاکستان صحافی کی گمشدگی: تشویش 12 July, 2006 | پاکستان عمرکوٹ کے صحافی پر تشدد 29 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||