BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 October, 2006, 06:34 GMT 11:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافی کو بے قصور قرار دیدیا گیا

شکیل
پولیس کے مطابق صحافی کے موبائیل فون کے ریکارڈ سے بھی کوئی ثبوت نہیں ملا۔
سپریم کورٹ کی طرف سے تہرے قتل کے مقدمے میں ایک صحافی کے خلاف اسلام آباد پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کا نوٹس لینے پر پولیس حکام نے صحافی کو بے گناہ قرار دے دیا ہے۔

تفصیل کے مطابق پیر کے روز ایس ایس پی (تفتیش) ڈاکٹر معین نے انسپکٹر جنرل پولیس کی دستخط کردہ ایک رپورٹ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو پیش کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ سطحی پولیس افسران کی تحقیقاتی ٹیم نے متفقہ طور پر جانچ کرکے فیصلہ دیا ہے کہ صحافی بے قصور ہے۔

پولیس افسر نے عدالت کویہ بھی بتایا کہ مقدمہ درج کرنے والے تھانہ شہزاد ٹاؤن کے ایس ایچ او کے خلاف عدالتی جانچ جاری ہے اور اگر وہ قصور وار قرار پائے گئے تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

چیف جسٹس نے صحافی کو تہرے قتل کے مقدمے میں مبینہ طور پر ملوث کیے جانے کی خبروں کی اشاعت پر ازخود کارروائی کرتے ہوئے نوٹس لیا تھا۔ پولیس کی اس رپورٹ کے بعد عدالت نے معاملہ نمٹا دیا ہے۔

واضح رہے کہ اسلام آباد کے مضافات میں حاجی نواز کھوکھر، ان کے بیٹے کاشف کھوکھراور بھتیجے عابد حسین کو ذاتی دشمنی کی بنا پر ان کے مخالفین نےگزشتہ ماہ کے وسط میں قتل کردیا تھا۔ جس کے بعد مقتول نواز کھوکھر کے بیٹے ثاقب نواز نے سولہ ستمبر کو شہزاد ٹاؤن تھانے میں قتل کا مقدمہ درج کرایا اور ملزمان میں دی نیوز اخبار کے کرائم رپورٹر شکیل انجم کا نام بھی درج کرایا۔

عدالت اعظمیٰ کے چیف جسٹس نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے رپورٹ طلب کی۔ عدالتی کارروائی کے بعد آئی جی پولیس اسلام آباد نے سینئر افسران پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔

عدالت میں پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم نے جب فریادی ثاقب کھوکھراور ان کے گواہان یوسف علی اور علی اصغر سے تفتیش کی تو وہ ایسا کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر پائے جس سے صحافی شکیل انجم کے ملوث ہونے کی شہادت ملے۔ پولیس کے مطابق انہوں نے متعلقہ صحافی کے موبائیل فون کے ریکارڈ کا بھی معائنہ کیا لیکن کوئی ثبوت نہیں ملا۔

دو صفحات کی رپورٹ میں پولیس حکام نے کہا کہ تمام ثبوتوں کا جائزہ لینے کے بعد تحقیقاتی ٹیم نے متفقہ طور پر سفارش کی ہے کہ شکیل انجم بے قصور ہیں اور ان کا مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔ پولیس کی رپورٹ کے بعد عدالت نے یہ معاملہ نمٹا دیا ہے۔

اسی بارے میں
کراچی: گم شدہ صحافی گھر آ گئے
23 September, 2006 | پاکستان
’سوری تم تو صحافی ہو‘
23 September, 2006 | پاکستان
صحافی حیات اللہ قتل انکوائری
17 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد