صحافی کو بے قصور قرار دیدیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ کی طرف سے تہرے قتل کے مقدمے میں ایک صحافی کے خلاف اسلام آباد پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کا نوٹس لینے پر پولیس حکام نے صحافی کو بے گناہ قرار دے دیا ہے۔ تفصیل کے مطابق پیر کے روز ایس ایس پی (تفتیش) ڈاکٹر معین نے انسپکٹر جنرل پولیس کی دستخط کردہ ایک رپورٹ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو پیش کی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ سطحی پولیس افسران کی تحقیقاتی ٹیم نے متفقہ طور پر جانچ کرکے فیصلہ دیا ہے کہ صحافی بے قصور ہے۔ پولیس افسر نے عدالت کویہ بھی بتایا کہ مقدمہ درج کرنے والے تھانہ شہزاد ٹاؤن کے ایس ایچ او کے خلاف عدالتی جانچ جاری ہے اور اگر وہ قصور وار قرار پائے گئے تو ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ چیف جسٹس نے صحافی کو تہرے قتل کے مقدمے میں مبینہ طور پر ملوث کیے جانے کی خبروں کی اشاعت پر ازخود کارروائی کرتے ہوئے نوٹس لیا تھا۔ پولیس کی اس رپورٹ کے بعد عدالت نے معاملہ نمٹا دیا ہے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کے مضافات میں حاجی نواز کھوکھر، ان کے بیٹے کاشف کھوکھراور بھتیجے عابد حسین کو ذاتی دشمنی کی بنا پر ان کے مخالفین نےگزشتہ ماہ کے وسط میں قتل کردیا تھا۔ جس کے بعد مقتول نواز کھوکھر کے بیٹے ثاقب نواز نے سولہ ستمبر کو شہزاد ٹاؤن تھانے میں قتل کا مقدمہ درج کرایا اور ملزمان میں دی نیوز اخبار کے کرائم رپورٹر شکیل انجم کا نام بھی درج کرایا۔ عدالت اعظمیٰ کے چیف جسٹس نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس سے رپورٹ طلب کی۔ عدالتی کارروائی کے بعد آئی جی پولیس اسلام آباد نے سینئر افسران پر مشتمل تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔ عدالت میں پیش کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم نے جب فریادی ثاقب کھوکھراور ان کے گواہان یوسف علی اور علی اصغر سے تفتیش کی تو وہ ایسا کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کر پائے جس سے صحافی شکیل انجم کے ملوث ہونے کی شہادت ملے۔ پولیس کے مطابق انہوں نے متعلقہ صحافی کے موبائیل فون کے ریکارڈ کا بھی معائنہ کیا لیکن کوئی ثبوت نہیں ملا۔ دو صفحات کی رپورٹ میں پولیس حکام نے کہا کہ تمام ثبوتوں کا جائزہ لینے کے بعد تحقیقاتی ٹیم نے متفقہ طور پر سفارش کی ہے کہ شکیل انجم بے قصور ہیں اور ان کا مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔ پولیس کی رپورٹ کے بعد عدالت نے یہ معاملہ نمٹا دیا ہے۔ | اسی بارے میں کراچی: گم شدہ صحافی گھر آ گئے 23 September, 2006 | پاکستان صحافی کی اغوا پر احتجاجی ریلی23 September, 2006 | پاکستان ’سوری تم تو صحافی ہو‘ 23 September, 2006 | پاکستان صحافی حیات اللہ قتل انکوائری17 September, 2006 | پاکستان صحافی پر تشدد کے خلاف بائیکاٹ ختم15 September, 2006 | پاکستان ’پاکستان، صحافیوں کیلیئے خطرناک‘03 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||