BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 September, 2006, 02:40 GMT 07:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافی کی اغوا پر احتجاجی ریلی

صحافیوں کا احتجاج
موجودہ دور ضیا دور حکومت سے بھی زیادہ خراب ہے: غازی صلاح الدین
کراچی کے صحافی سعید سربازی کی حراست کے خلاف صحافیوں نے جمعہ کے روز بھی احتجاج جاری رکھا اور گورنر ہاؤس تک مارچ کیا۔

صحافیوں نے کراچی پریس کلب سے گورنر ہاؤس تک مارچ کیا۔ راستے میں دو مرتبہ پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی مگر صحافی گورنر ہاؤس تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

گورنر ہاؤس کے باہر صحافیوں نے دھرنا دیا۔ اس موقع پر فوجی حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی گئی۔

صحافیوں نے اعلان کیا کہ اگر بارہ گھنٹے میں سعید سربازی کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تو پورے ملک میں صحافی احتجاج کرینگے جبکہ وزیر اعلی ہاؤس اور کور کمانڈر کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا جائیگا۔

اس سے قبل پریس کلب میں صحافیوں کا احتجاجی اجلاس ہوا جس میں پاکستان یونین آف جرنلسٹ کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعید سربازی کا کیس کوئی ذاتی دشمنی یا اغوا برائے تاوان نہیں ہے مگر انٹیلی جنس والوں نے اسے حراست میں لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں بلوچ ہونا ایک جرم بن گیا ہے، جس کی لوگوں کو سزا دی جارہی ہے۔

مظہر نے بتایا کہ سعید ھیپاٹائٹس سی میں مبتلا ہے اسے ہفتے میں دو انجیکش لگائے جاتے ہیں۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ کس حالت میں ہے۔

صحافی
صحافیوں نے حکومت کو بارہ گھنٹے کا الٹیمیٹم دیا ہے

کراچی پریس کلب کے صدر غازی صلاح الدین کا کہنا تھا کہ موجودہ دور ضیا دور حکومت سے بھی زیادہ خراب ہے۔ اس دور میں صحافیوں کو کوڑے مارے جاتے تھے مگر اس حکومت میں بغیر کسی وجہ کے اٹھایا جاتا اور بعد میں ان کی لاشیں ملتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جرنل ضیا الحق کے دور حکومت میں صحافیوں نے جو تحریک شروع کی اس وقت بھی ایسی تحریک کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب جمعہ کے روز بھی صحافیوں نے سندھ اسمبلی کی کوریج کا بائیکاٹ جاری رکھا۔

صوبائی وزیر داخلہ روؤف صدیقی نے ایک مرتبہ پھر صحافیوں سے ملاقات کرکے بتایا کہ سعید سربازی پولیس کی حراست میں نہیں ہیں۔

صحافیوں کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹ نے بھی سعید کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے صدر کرسٹوفر وارن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعید کی گشمدگی نے صحافیوں کے خلاف جاری کارروائیوں میں مزید ایک باب کا اضافہ کیا ہے۔

اسی بارے میں
صحافی حیات اللہ قتل انکوائری
17 September, 2006 | پاکستان
عمرکوٹ کے صحافی پر تشدد
29 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد