BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 January, 2008, 10:47 GMT 15:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس افسروں کے بیانات قلمبند

نماز جنازہ
سانحہِ کارساز میں ڈیڑہ سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے
کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے قافلے پر بم حملے کی تحقیقات کرنے والے ٹربیونل میں دو پولیس افسران نے انکشاف کیا ہے کہ وہ بینظیر بھٹو کی فلوٹ سے آگے تھے اور ان کی نظر ان پر نہیں تھی۔

یہ ٹربیونل اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں بینظیر بھٹو کے جلوس پر حملے میں ملوث ملزمان اور انتظامی خامیوں کا تعین کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، جس کے سربراہ جسٹس غوث محمد ہیں۔

ٹربیونل میں جمعرات کو ایس پی جاوید بلوچ اور انسپیکٹر تصدق وارث نے بیانات رکارڈ کروائے اور ان سے جرح کی گئی۔

ایس پی جاوید بلوچ کا کہنا تھا کہ وہ جلوس کے ساتھ ساتھ تھے اور وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیکیورٹی منتظمین سے رابطے میں تھے۔ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے ورکرز بھی بینظیر بھٹو کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔

جسٹس غوث محمد نے ان سے پوچھا کہ کیا ان ورکروں کو چیک کیا گیا تھا، ان میں سے کسی کے پاس اسلحہ تو نہیں تھا؟ ایس پی جاوید بلوچ نے اس کا جواب نفی میں دیا۔

جسٹس غوث محمد نے معلوم کیا کہ دھماکے سے پہلے یا بعد میں کیا بینظیر بھٹو ٹرک پر موجود تھیں؟ ایس پی جاوید بلوچ کا کہنا تھا کہ وہ کافی آگے تھے یہ دیکھ نہیں سکےتھے۔

ان کے اس بیان پر جسٹس غوث محمد نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ جس شخص کی سیکیورٹی کی ذمہ داری آپ کو دی گئی تھی آپ نے اس پر نظر ہی نہیں رکھی ہوئی تھی۔ ٹربیونل نے اپنی کارروائی پیر تک ملتوی کردی۔

ٹربیونل میں گزشتہ روز سب انسپکٹر عابد حسین نے بیان دیا تھا کہ وہ گاڑی سے تین سو فٹ دور تھے کہ پہلے دھماکہ ہوا، رش کی وجہ سے آگے نہیں بڑہ سکے تھے ۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے والی جگہ کے قریب چار مشتبہ افراد موجود تھے جو گلیوں میں غائب ہوگئے اور وہ ان کا پیچھا نہیں کرسکے۔

پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو آٹھ سالہ خود ساخہ جلاوطنی کے بعد اٹھارہ اکتوبر کو کراچی پہنچی تھیں تو ان کے استقبالی جلوس پر بم حملا کیا گیا تھا، جس میں ڈیڑہ سو سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

کارساز تحقیقات
حکومت اور پی پی پی کے درمیان ڈیڈلاک
’کارساز‘ تحقیقات
بینظیر’خود کش‘ حملے بھی موٹی فائل میں بند؟
’لیاری کے جانثار‘
پیپلز پارٹی کے لیے ہر وقت جان دینے کو تیار
افتخار کے بعد بینظیر
وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا
بینظیربینظیر کی سیکورٹی
خطرہ کون، طالبان یا ’جہادی‘ اسٹیبلشمنٹ ؟
بینظیر بال بال بچ گئیں
بینظیر پر حملے کی وارننگ سچ ثابت ہوئی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد