نقصان کے تخمینے کے لیے کمیشن قائم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی حکومت نے 27 دسمبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق سربراہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں ہنگاموں ’لوٹ مار‘ ڈکیتی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں نجی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے اور ان نقصانات کے معاوضوں کے لیے سفارشات تیار کرنے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔ یو اے جی عیسانی کی سربراہی میں قائم ہونے والا یہ کمیشن تیس روز کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ جمعہ کو کمیشن کے قیام کے حوالے سے وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق یو اے جی عیسانی کمیشن کے صدر ہوں گے جبکہ اس کے ممبران میں متعلقہ ہوم ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے، انسپکٹر جنرل پولیس کے نمائندے اور محکمہ ریونیو کے نمائندے شامل ہونگے۔ یہ کمیشن نجی نقصانات جس میں جانی و مالی دونوں طرح کی معلومات جمع کریں گے۔ کمیشن پاکستان کمیشن آف انکوائریز ایکٹ انیس سو چھپن کی شق تین کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد جمعرات سے لے کر اتوار تک ملک کے مختلف حِصوں میں ہنگامہ آرائی ہوئی تھی۔ اس دوران پیٹرول پمپ بند رہے اور روزمرہ زندگی کی اشیاء یعنی دودھ، آٹا، چاول، سبزی، اور دیگر چیزیں ناپید ہونے کی وجہ سے لوگوں کو بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ محلوں اور گلیوں میں جہاں روزمرہ اشیاء کی دکانیں کچھ وقفے کے لیے کھولی گئیں وہاں دکاندار منہ مانگی قیمت وصول کرتے رہے۔ |
اسی بارے میں ’قتل پاکستان کی سلامتی پر حملہ‘04 January, 2008 | پاکستان ’اپنے ہی شہر اجنبی بن گئےتھے‘04 January, 2008 | پاکستان ’ہنگاموں میں اکاون لوگ ہلاک ہوئے‘02 January, 2008 | پاکستان پرتشدد احتجاج میں کمی30 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||