اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
| | سندھ میں ایک سرکاری دفتر کی جلی ہوئی عمارت |
اپنی سالانہ چھٹیوں کے دوران ستائیس دسمبر کو پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی خبر مجھے اپنے آبائی علاقے گھوٹکی میں ملی اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے مختلف شہروں اور باالخصوص سندھ کے متعدد شہروں میں آگ لگ گئی۔ گھوٹکی میں ستائیس دسمبر کی شام گئے پہلا ٹرالر فوج کی لاجسٹک سے متعلق ادارے ’این ایل سی ‘ کا جلایا گیا۔ سکھر سے گھوٹکی آتے ہوئے شہر سے ذرا پہلے ایک آٹے کی مل کے سامنے دھاڑیں مارکر روتے ہوئے پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے جب سرخ رنگ کے ایک نجی ٹرالر کو جلانے کی خاطر روکا تو اس کے ڈرائیور نے قرآن کی قسم اٹھاکر چلاتے ہوئے کہا کہ میں پیپلز پارٹی کا ہوں دیکھو میرے ٹرالر کے اندر محترمہ کی تصویر لگی ہے۔ بینظیر بھٹو کی تصویر نے سرخ ٹرالر کو جلنے سے بچالیا اور پتہ نہیں بعد میں اس کا کیا بنا۔ لیکن بعد میں زخمی شیر کی طرح بھپرے ہوئے پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے گھوٹکی ریلوے سٹیشن کا رخ کیا۔ تھوڑی ہی دیر میں آگ کے شعلے بلند ہوئے اور ریلوے سٹیشن کا کافی حصہ جل گیا۔ ریلوے ٹریک اکھاڑنے کی کوشش کی گئی اور پٹڑیوں کے درمیاں والی لکڑیوں ’سلیپرز، کو آگ لگا دی گئی۔ گھوٹکی ویسے تو ریلوے کے خوفناک حادثات کی وجہ سے مشہور ہے اور اس بار بھی گھوٹکی اور اس کے گرد نواح میں جہاں ریلوے سٹیشن جلائے گئے وہاں دو ریل گاڑیوں سے مسافروں کو اتار کر آگ لگادی گئی۔ ایک ریل گاڑی تو پنو عاقل کی فوجی چھاؤنی کے احاطے میں جلائی گئی جہاں فوجی اہلکار دیکھتے رہ گئے اور مقامی لوگوں کے مطابق بعض اہلکاروں کا ابتدائی رد عمل تھا کہ ریل کو بچانا ان کی ذمہ داری نہیں۔
 | | |
اُس ٹرین کے مسافروں کو قریب ہی ایک گاؤں کے لوگوں نے پناہ دی ۔متاثرہ گاڑی کے بیشتر مسافروں کا تعلق صوبہ پنجاب اور صوبہ سرحد سے تھا۔ اس بدقسمت ٹرین میں میرا ایک دوست دین محمد بھی تھا جس نے آپ بیتی سناتے ہوئے کہا کہ سندھیوں نے دو سو کے قریب متاثرہ مسافروں کو دو روز تک کھانا کھلایا اور سخت سردی میں اپنے گھروں اور بیٹھکوں میں سُلایا۔ لیکن اٹھائیس دسمبر کو دوسری ریل گاڑی کو گھوٹکی کے قریب حکام نے یہ کہتے ہوئے روک لیا کہ آگے جانے کی صورت میں بہت بڑا حادثہ ہوسکتا ہے۔ اس ریل گاڑی کو گرنے سے تو بچالیا گیا لیکن لُٹنے سے نہیں۔ دریائے سندھ کے کنارے واقع جنگلات سے پچیس سے تیس موٹر سائیکلوں پر سوار ساٹھ سے ستر کے قریب مسلح ڈاکوؤں نے گھیرلیا اور لوٹ مار کرنے کے بعد سندھ کی ثقافت کی علامت اجرک (مخصوص چادر) کی بڑی گٹھڑیاں باندھیں۔ ڈاکوؤں کے اس گروہ نے بعد میں گھوٹکی شہر کا رخ کیا جہاں دن دیہاڑے نیشنل بینک کے سٹرانگ روم کو راکٹ لانچر اور گولیاں مارکر توڑنے کی کوشش کی۔ لیکن وہ سٹرانگ روم توڑ نہ سکے اور واپس جاتے ہوئے شہر اور جی ٹی روڈ سے تیس کے قریب موٹر سائیکلیں چھین کر فرار ہوگئے۔
 | | |
ڈاکوؤں سے پہلے گھوٹکی شہر کی پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور عام شہریوں نے اینٹ سے اینٹ بجادی تھی اور اس دوران پولیس اہلکار ہوں یا جرائم پیشہ لوگ یا پھر بچے سب نے لوٹ مار کے اس بازار سے فائدہ اٹھایا۔ کسی کے ہاتھ گھی کا ڈبہ لگا تو تو کسی کو موبائیل فون، باٹا اور سروس کے جوتے یا پھر آٹے کا تھیلا اور پیڈسٹل فین۔ کوئی جانوروں کے چارے کی بوریاں لے گیا تو کوئی کپڑے کے تھان۔ گھوٹکی سے نصف گھنٹے سے بھی کم فاصلے پر واقع پنو عاقل فوجی چھاؤنی سے اہلکار گھوٹکی تو نہیں پہنچ سکے۔ البتہ چھاؤنی سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر واقع فوجی فرٹیلائیزر کو بچانے کے لیے پتہ نہیں کہاں سے فوجی اہلکار پہنچ گئے۔ سڑک بند ہونے کی وجہ سے پیٹرول پمپوں اور ہوٹلوں کے قریب کھڑے ٹرک اور ٹرالرز ڈاکو کچے کے علاقے میں لے گئے جہاں ان سے سامان اتار لیا گیا۔ بعض خالی ٹرک واپس کیے تو کچھ جلادیے گئے۔ جب انتیس دسمبر کو جائزہ لینے کے لیے ہم نکلے تو جی ٹی روڈ پر بعض مقامی لوگوں نے بتایا کہ جی ٹی روڈ پر ڈاکوؤں کی لوٹ مار کے دوران تھوڑے ہی فاصلے پر رینجرز کی بعض گاڑیوں میں سوار اہلکاروں کو اطلاع دی گئی تو انہوں نے کہا کہ ڈاکوؤں کو روکنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ جبکہ گھوٹکی میں تو ایسا لگا کہ پولیس ستائیس دسمبر کی شام سے ہی چھٹی پر تھی۔ گھوٹکی سمیت صوبہ سندھ میں جو کچھ بھی ہوا وہ پیپلز پارٹی کے حامیوں کا ایک غیر منظم انداز میں فوری رد عمل تھا۔ بعض مقامات پر غیر سندھیوں کی املاک کو نقصان پہچانے کی جان بوجھ کر کوشش کی گئی اور لسانی بنیاد پر نفرت کا اظہار بھی کیا گیا۔ لیکن اس طرح کی کوششیں بظاہر بعض لوگوں کا ذاتی رد عمل تھا۔ اگر سیاسی جماعت کے فورم سے منظم انداز میں اس طرح کا رد عمل ہوتا یا بعض قوم پرست جماعتیں اس کا فائدہ اٹھاتیں تو پھر شاید تباہی کا پیمانہ کئی گنا ہوتا۔ ایسی صورت میں کسی کی دوکان نہیں جلتی بلکہ پیٹرول اور گیس کی پائپ لائن تباہ ہوتیں اور پلانٹس اور فوجی تنصیبات نشانہ بنتیں۔ |