BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 January, 2008, 12:00 GMT 17:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹرانسپورٹ، شادی کاروبار کو نقصان

کھانے
لوگوں نے شادی اور ولیمے کی تقریبات ملتوی کردیں
سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ہونے والے ہنگاموں کی وجہ سے ٹرانسپورٹروں، شادی ہال اور کیٹرنگ کے کاروبار سے منسلک افراد کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد کئی لوگوں نے سوگ میں اور کئی نے ہنگامہ آرائی کی وجہ سے شادی اور ولیمے کی تقریبات ملتوی کردیں اور لوگوں کو اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے مطلع کیا گیا۔

عام حالات میں ان دنوں میں شادی ہال میں جگہ ملنا ناممکن ہوتا ہے اور کیٹرنگ والوں کو فرصت نہیں ہوتی مگر آج کل دونوں فارغ ہیں۔

ناظم آباد کے ایک شادی ہال کے مینیجر محمد سعید کا کہنا ہے کہ ستائیس دسمبر سے لیکر اکتیس دسمبر تک سارے پروگرام ملتوی ہوگئے ہیں۔ جبکہ پیر کو کچھ حالات بہتر ہوئے تھے مگر افواہوں کی وجہ سے وہ بکنگ بھی منسوخ کردی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس دس جنوری تک ہال بک تھا اور اب جن کے پروگرام ملتوی ہوئے تھے ان کا بھی دباؤ ہے مگر جگہ کم ہے وہ کیا کرسکتے ہیں، کیٹرنگ والوں کو تو ستائیس دسمبر کو ہی نقصان اٹھانا پڑا جب تیار کھانا بانٹنا پڑا۔

یہ دن مرغی کے کاروبار سے منسلک لوگوں کے لیے بھی مصروفیت کے ہوتے ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات کی وجہ سے مرغی کی کھپت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ موجودہ حالات نے ان کے کاروبار کو بھی متاثر کیا ہے۔

 اس ملک میں تو یہ رجحان ہے کہ بیوی ناراض ہوجائے، نکلو رستے پر پتھر مارو، بجلی چلی جائے تو بھی گاڑی جلاؤ مگر اس سارے نقصان کے باوجود ٹرانسپورٹر اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔
صدر، ٹرانسپوٹر اتحاد
پولٹری ایسو سی ایشن کے رہنما معروف صدیقی کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ سے محرم تک شادیوں کا سیزن ہوتا ہے اور ان پندرہ بیس دنوں کے دوران کاروبار اچھا ہوتا ہے لیکن ان ہنگاموں کی وجہ سے کاروبار بالکل ٹھنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نقصان کا اندازہ ایک ہفتہ کے بعد لگایا جاسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان ہنگامہ آرائی کے دوران پولٹری فارموں پر فیڈ اور پانی بھی نہیں پہنچ سکا اور وہاں بھی نقصان ہوا ہے۔

محرم الحرام کے مہینے میں عام طور پر شادی بیاہ کی تقریبات نہیں ہوتیں اس لیے اکثر تقریبات محرم کے بعد تک ملتوی کی جا رہی ہیں۔

دوسری جانب ٹرانسپورٹروں کا کہنا ہے کہ واقعہ کی نوعیت کچھ بھی ہو اشتعال کا پہلا نشانہ ٹرانسپورٹر ہی بنتے ہیں۔

ٹرانسپوٹر اتحاد کے صدر ارشاد بخاری کا کہنا ہے کہ ان کا چار ارب روپے کا نقصان ہوا ہے جس میں پندرہ سو ٹرالر سامان سمیت جلائے گئے ہیں اور ڈیڑھ سو کے قریب منی بسیں اور کوچیں جلی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس ملک میں تو یہ رجحان ہے کہ بیوی ناراض ہوجائے، نکلو رستے پر پتھر مارو، بجلی چلی جائے تو بھی گاڑی جلاؤ مگر اس سارے نقصان کے باوجود ٹرانسپورٹر اپنا کاروبار جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘

ارشاد بخاری کا کہنا تھا کہ ایک گاڑی کئی لاکھ کی ہوتی ہے مگر حکومت کی جانب سے فی گاڑی کا معاوضہ دو لاکھ روپے مقرر ہے اور وہ بھی ایک طویل طریقہ کار سے ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہنگامہ آرائی ہوتی رہی اور گاڑیاں جلتی رہیں مگر کہیں بھی پولیس اور رینجرز کا نام ونشان نہیں تھا۔

ہنگامے، احتجاج
سارا ملک ہنگاموں کی لپیٹ میں
فائل فوٹواحتجاج اور ہنگامے
سندھ میں حکومت حامی افراد کی املاک پر حملے
بینظیر بھٹو قتلبینظیر بھٹو قتل
غصے کی آگ میں سندھ زیادہ کیوں جل رہا ہے؟
اسی بارے میں
جن سوالوں کا جواب نہیں
29 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد