BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 31 December, 2007, 07:17 GMT 12:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بینظیر قتل:سٹاک مارکیٹ میں بحران

سٹاک ایکسچینج بروکر (فائل فوٹو)
سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت سے ملکی معیشت پر برے اثرات مرتب ہوں گے
پاکستان کی حصص مارکیٹ کو تاریخی مندی کا سامنا ہے۔ کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس میں سات سو پوائنٹس کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر انتخابات مقررہ وقت پر نہ ہوئے تو شیئرز مارکیٹ میں یہ ہی صورتحال جاری رہے گی۔

راولپنڈی میں ستائیس دسمبر کو سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد سٹاک ایکسچینج بھی بند رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

پیر کو ہفتے کی پہلے روز کراچی سٹاک ایکسچینج کا آغاز ہی 4.3 منفی پوائنٹس سے ہوا اور کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس 14000 پوائنٹس تک آگیا ہے۔ مارکیٹ کے آغاز سے ہی بیشتر شیئرز لوئر لاک کی زد میں آگئے ہیں۔

کراچی سٹاک ایکسچینج کے قوائد اور ضوابط کے مطابق کسی بھی شیئرز کی قیمت پانچ فیصد منفی ہوگی تو اسے پر لوئر لاک کا نفاذ ہوگا اگر پانچ فیصد مثبت ہوگی تو اپر لاک کا نفاذ ہوگا اور اس شیئرز کے سودے نہیں ہوں گے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس قانون کی وجہ سے مارکیٹ مزید مندی سے بچ گئی ہے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت اور اس کے بعد ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد سرمایہ کار خوف میں مبتلا ہیں۔

تجزیہ نگار مزل اسلم کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کے ذہنوں میں یہ خوف ہے کہ ملکی حالات مزید خراب نہ ہوں جس وجہ سے مارکیٹ پانچ فیصد تک گری گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر مارکیٹ جمعہ کے روز بھی کھلتی تو بھی یہ ہی صورتحال سامنے آتی۔

مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ مارکیٹ میں بہتری اس وقت ہی ہوسکتی ہے جب یہ واضح ہو کہ انتخابات کب اور کتنے پرامن ہوتے ہیں۔

کراچی سٹاک ایکسچینج کے ڈائریکٹر عقیل کریم ڈیڈی کا کہنا ہے کہ پچھلے مہینوں میں حالات اور امن امان کی صورتحال اچھی نہیں تھی، مگر اس کے باوجود بھی مارکیٹ بہتر چل رہی تھی مگر بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد سرمایہ کاروں کے ذہنوں میں یہ سوال ہے کہ انتخابات بہت طویل عرصے کے لیے ملتوی نہ ہوجائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے جو پاکستان اور ایٹمی تنصیبات کے حوالے سے بات کی جارہی اور جو بیانات سامنے آرہے ہیں اس سے تاجر اور سرمایہ کار کافی پریشان ہیں۔

’پہلے صدر پرویز مشرف کو مقامی حمایت حاصل نہیں تھی کچھ لوگ مخالفت کر رہے تھے مگر بین الاقوامی حمایت زیادہ تھی مگر اب صورتحال پریشان کن ہیں۔‘
کراچی حصص مارکیٹ پر غیرملکی سرمایہ کار بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ چھٹیوں کے باعث ان کا رد عمل سامنے نہیں آیا۔

عقیل کریم ڈیڈی کا کہنا ہے کہ اگر غیرملکی سرمایہ کار شیئرز فروخت کرتے ہیں تو، اس کے مارکیٹ پر مزید اثرات مرتب ہوں گے اگر لوگوں کا اعتماد بحال ہوگیا تو کل ہی مارکیٹ مثبت ہوجائیگی۔

سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ نگاروں کے مطابق ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری بھی کوئی خاص نہیں تھی مگر بلواسط سرمایہ کاری ہوئی تھی، جس میں برطانوی بارکلے بینک نے ایک سو ملین ڈالرز کا وعدہ کیا تھا، خلیفا ریفائنری پانچ ارب ڈالرز کا معاہدہ کیا تھا۔ مرسڈیز کمپنی بھی چار بلین ڈالرز کا پلانٹ لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ملکی حالات ان سودوں اور معاہدوں پر بھی اثر انداز ہونے کے امکانات ہیں۔

دوسری جانب ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بھی پانچ پیسے کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو چھ سالوں میں ریکارڈ کمی ہے۔ اکتوبر دو ہزار ایک میں فی ڈالر اکسٹھ روپے نوے پیسے تک پہنچ گیا تھا جو اس وقت اکسٹھ رپے پچاسی روپے ہے۔

اسی بارے میں
کے ای ایس سی کی نجکاری منظور
07 February, 2005 | پاکستان
کے ای ایس سی کم قیمت
04 February, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد