سندھ: ہزاروں کے خلاف مقدمات درج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بینظیر بھٹو کے قتل کے خلاف احتجاج کے دوران پھوٹ پڑنے والے ہنگاموں کے دوران توڑ پھوڑ اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، آتشزدگی اور لوٹ مار کے الزامات کے تحت اندرون سندھ میں پولیس نے ہزاروں افراد کے خلاف درجنوں مقدمات درج کر لیے ہیں۔ صوبائی حکومت کا کہنا جو بھی ہنگامہ آرائی میں ملوث ہوگا اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ محکمہ داخلہ کے سیکریٹری غلام محمد محترم کا کہنا ہے کہ کتنے مقدمات اور کتنے افراد پر دائر کیے گئے ہیں فی الوقت اس بارے میں نہیں بتایا جاسکتا۔ ان ایف آئی آروں میں نامزد ملزمان میں پیپلز پارٹی کے سابق اراکین اسمبلی، پارٹی عہدیداران اور مجوزہ انتخابات کے لیے نامزد امیدوار بھی شامل ہیں۔ سیکریٹری داخلہ کے مطابق کوئی بھی سرکاری یا نجی املاک کو نقصان پہنچائے گا اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائےگی چاہے وہ ملک کا صدر ہی کیوں نہ ہو۔ سندھ پولیس اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق آصف علی زرداری کے شہر نواب شاہ میں پولیس نے دو ہزار افراد کے خلاف آٹھ مقدمات درج کر کے بیس سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ دادو میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں رفیق احمد جمالی، پیر مظہرالحق اور شاہ جیلانی سمیت ساڑھے تین ہزار افراد کے خلاف ساٹھ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ٹھٹہ میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں سسئی پلیجو، حاجی عثمان ملکانی اور دیگر پندرہ سو پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
نگران وزیر اعظم محمد میاں سومرو کے آبائی شہر جیکب آباد میں دو ہزار شہریوں کے خلاف تین بینکوں کو نقصان پہنچانے، ضلع کونسل اور دیگر سرکاری دفاتر کو جلانے کے چودہ مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔ ٹنڈوجام میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں سمیت دو سو افراد کے خلاف نو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ نوشہرو فیروز ضلع کی مورو پولیس نے پانچ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ سول جج کی فریاد پر سول کورٹ کی عمارت کو نذر آتش کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ بدین میں ایک درجن سے زائد افراد کے خلاف توڑ پھوڑ کرنے کے الزام میں کیس داخل کیے گئے۔ خیرپور کے علاقے ٹھری میرواہ میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ساڑھے تین ہزار افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئےہیں، سینئر سول جج نے عدالت کی عمارت اور رکارڈ کو نذر آتش کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ جبکہ خیرپور شہر کے تھانوں میں بھی سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ سندھ بھر میں بینظیر بھٹو کے سوئم کے روز یہ مقدمات دائر کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ملک بھر سے پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی گرفتاری اور ان پر مقدمات دائر کرنے کی مذمت کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ زرداری نے پریس کو ایک بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ صدمے میں مبتلا ہونے کے باوجود وفاق کو بچانے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کی گرفتاریوں سے غیرجمہوری قوتیں پیپلز پارٹی کو انتخابات سے دور رکھنا چاہتی ہے۔ آصف علی زرداری کا کہنا تھا: ’پی پی کارکن بینظیر بھٹو کا سوگ منا رہے ہیں، وہ لوٹ مار میں ہرگز ملوث نہیں ہیں، حکومت حقیقی مجروں کو تلاش کرے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||