احمد رضا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | کراچی میں تاجروں اور صنعتکاروں کو کافی نقصان ہوا ہے |
کراچی کے صنعتکاروں کے بعد اب تاجروں کے نمائندوں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کو فوج کے کنٹرول میں دیا جائے کیونکہ پولیس اور رینجرز انہیں سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ الائنس آف مارکیٹ ایسوسی ایشنز کراچی کے چیئرمین عتیق میر نے کہا کہ ’کہیں پر بھی کوئی سکیورٹی، کوئی روک تھام کرنے والا یا لوگوں کو کاروبار جاری رکھنے کی امید دلانے والا کوئی سرکاری ادارہ ہم نے نہیں دیکھا بلکہ چار دن سے ایسا لگتا ہے کہ یہ شہر نما جنگل ہے اور دور دور تک قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ شہر میں حکومت کا کوئی وجود نظر نہیں آتا اور ایسا لگتا ہے کہ شہر کو بلوہ اور لوٹ مار کرنے والوں کے حوالے کردیا گیا ہے۔ ’لوگ انتہائی سراسیمگی کی حالت میں ہیں اور صورتحال یہ ہے کہ لوگوں کو آنے والے کل کے بارے میں کچھ نہیں پتہ کہ کیا ہوگا۔‘ انہوں نے کہا کہ پیر کو راشن کی دکانیں کھلیں تو ان پر لوگوں کی طویل قطاریں لگ گئی تھیں جس سے ظاہر ہوتا ہے گھروں میں راشن کی سخت قلت ہے۔ ’مجھے یہ لگتا ہے کہ اگر یہ صورتحال دو سے تین دن مزید جاری رہی تو گھروں میں بھوک اور مفلسی پھیل جائے گی خصوصاً وہ لوگ جو ڈیلی ویجز پر کام کرتے ہیں اور گھوم پھر کر چیزیں فروخت کرتے ہیں ان کی حالت دیدنی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ صوبائی اور مقامی حکومت کا سکیورٹی کا نظام مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے اور وہ خود خوف و دہشت کا شکار ہیں کیونکہ پولیس پر حملے ہوئے ہیں۔ ’اس لئے بہت ضروری ہے کہ فوری طور پر شہر میں کاروباری علاقوں میں فوج کو تعینات کیا جائے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں اگر کوئی بہت بڑا نقصان ہوا تو اس وقت فوج کے آنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر فوج تعینات نہیں کی گئی تو آنے والے دنوں میں بھی کوئی دکانیں نہیں کھولے گا جس سے سب سے زیادہ عام آدمی متاثر ہوگا۔ یاد رہے کہ اس سے قبل کراچی ایوان تجارت و صنعت کے سابق صدر اور شہر کے صنعتکار زبیر موتی والا نے حکومت سے صنعتی علاقوں کو فوج کے حوالے کرنے اور وہاں کرفیو لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے صنعتی علاقوں میں بیس سے زائد فیکٹریوں کو آگ لگایا جاچکا ہے جبکہ کوٹری میں بھی سولہ فیکٹریوں کو جلایا گیا ہے۔ |