نئی تاریخ پر ق لیگ خوش، باقی نالاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان الیکشن کمشن نے عام انتخابات اٹھارہ فروری تک ملتوی کردیئے ہیں جس پر پاکستان میں اپوزیشن کی تقریبا ان تمام جماعتوں نے احتجاج کیا ہے جو انتخابات میں حصہ لینے کی فیصلہ کر چکی ہیں جبکہ حالیہ سابق حکمران جماعت مسلم لیگ قاف نے اس التوا کو تسلیم کرتے ہوئے اسے ایک درست قدم قرار دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے کہا ہے کہ اٹھارہ فروری کے انتخابات میں حصہ لیا جائے گا تاہم اس التوا کے بارے میں ایک مشترکہ لائحہ عمل بنانےکے لیے ان دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے آپس میں اور دیگر جماعتوں سے صلاح و مشورہ شروع کردیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف نے اپنی پارٹی کے عہدیداروں سے ملاقات کی ہے اور انتخابات کے حوالے سے نئی حکمت عملی ترتیب دینے کا کہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری کہہ چکے ہیں کہ ان کی پارٹی اٹھارہ فروری کو انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی اور قاتل لیگ کو بھاگنے نہیں دے گی۔ آصف زرداری نے کہا ہے کہ راولپنڈی کے عوام نے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم دوبارہ راولپنڈی سے شروع کی جائے جہاں بےنظیر بھٹو نے اپنا آخری انتخابی جلسہ کیا تھا۔آصف زرداری نے کہا کہ وہ اس بار ے میں غور کررہے ہیں اور جلد پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم دوبارہ شروع کی جائے گی۔ مسلم لیگ نواز نے انتخابات کے التوا کو ایک انتہائی افسوسناک اقدام قرار دیا ہے اورکہا کہ یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ الیکشن کمیشن کی حیثیت آمریت کے ہاتھ میں ایک کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں ہے۔ مسلم لیگ نواز کی جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق انتخابات کو ملتوی کرنے کا مقصد اس کےسوا کچھ نہیں ہے کہ مردہ ہوجانے والی( ق) کو پھر زندہ کرنے کی کوشش کی جائے لیکن (ق) میں جان نہیں ڈالی جاسکتی۔ مسلم لیگ نواز نے مطالبہ کیا کہ صدر پرویز مشرف اقتدار سے الگ ہوجائیں اور قومی حکومت تمام جماعتوں کی مشاورت کے ساتھ طے شدہ انتظامات کے تحت انتخابات کرائے۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے انتخابات کے التوا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی انتخابات کا بائیکاٹ کرکے مشرف ہٹاؤ تحریک میں شامل ہوجائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر پرویزمشرف کے استعفے کے بعد نئی حکومت نئے الیکشن کمیشن اور نئے شیڈول کے تحت انتخابات کرائے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ وہ انتخابات کے التوا کے حق میں نہیں ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ ہمارا موقف یہ ہے کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہوں۔ مولانا فضل الرحمن نے واضح کیا ہے کہ انتخابات ایک مرتبہ ملتوی کئے جانے کے بعد دوبارہ کوئی تاخیر قبول نہیں کی جائے گی جیسا کہ جنرل ضیاءالحق نے اپنے دور میں کی تھی۔ مسلم لیگ قاف کے صدر چودھری شجاعت حسین نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ الیکشن کمشن کا جو بھی فیصلہ ہوگا ان کے لیے قابل قبول ہوگا۔انہوں نے کہا نون لیگ نے آصف زرداری کو اپنا سربراہ بنالیاہے اور ان کی مسلم لیگ کا اب اٹھارہ فروری کو پیپلز پارٹی سے مقابلہ ہوگا اور اپنی کارکردگی کی بنیادپر وہ ووٹ لیں گے۔انہوں نے کہا کہ لاشوں کی سیاست کرنے والوں کو ان انتخابات میں کچھ نہیں ملے گا۔متحدہ قومی موومنٹ کے کنونیئر فاروق ستار نے الیکشن کمشن کے فیصلے کو موجود حالات میں ایک بہتر فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ ان کی جماعت کسی بھی وقت انتخابات کے لیے تیار ہے۔ سندھ کے سابق وزیر اعلی مسلم لیگ قاف کے سندھ کے صدر غلام ارباب رحیم نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کو گھروں سے نکلنے نہیں دیا جارہا ہے اور وہ ملک میں خون خرابہ نہیں چاہتے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں وقت مل گیا ہے اور وہ اٹھارہ فروری کو بہتر انداز میں الیکشن لڑ سکیں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات فرزانہ راجہ نے کہا کہ اس موقع پر جبکہ بیلٹ پیپر چھپ چکے ہیں انتخابات کا التواء ایک انتہائی نامناسب اقدام ہے۔انہوں نے کہا کہ بیلٹ پیپر کو اتنی دیر تک رکھنا غیرمحفوظ ہے اور ان کےچوری اور غلط استعمال کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔انہوں نے الیکشن کمشن کے اس دعوے کو مسترد کیا ہےکہ الیکشن کمشن کا سامان ہنگاموں میں ضائع ہوا ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ نقصان تو ضلعی حکومتوں کے دفاتر کا ہوا ہے کیا الیکشن کمشن کا سامان ان دفاتر میں رکھا ہوا تھا؟ مرکزی جمعیت علمائے پاکستان کے صدر حاجی صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ الیکشن کمشن کا یہ دعوی جھوٹ ہے کہ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد انتخابات ملتوی کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمشن نے انتخابات کی تاریخ بڑھا کر ملک و قوم کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انتخابات کو مستردکریں اور ان کے ساتھ مشرف ہٹاؤ ملک بچاؤ تحریک میں شامل ہوجائیں۔جماعت اسلامی اپوزیشن کی ان پارٹیوں میں شامل ہے جنہوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کررکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کےہوتےہوئے اس ملک میں منصفانہ انتخابات ممکن نہیں ہیں۔ گزشتہ روز پاکستان کے انتخابی کمیشن نے ملک میں آٹھ جنوری کے عام انتخابات کو ملتوی کرتے ہوئے انہیں اب چالیس روز کی تاخیر سے اٹھارہ فروری کو منعقد کرانے کا اعلان کیا تھا۔ ستائیس دسمبر کو راولپنڈی میں پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بےنظیر بھٹو کی خودکش حملے میں ہلاکت کے بعد سے آٹھ جنوری کے عام انتخابات شک میں پڑ گئے تھے۔ اس نئی تاریخ سے یہ غیریقینی صورتحال کے خاتمے کا امکان ہے۔ |
اسی بارے میں بائیکاٹ پر قائم ہیں: اے پی ڈی ایم01 January, 2008 | پاکستان ’مختصر التواء میں حرج نہیں‘01 January, 2008 | پاکستان بینظیر انتخابی دھاندلی پر رپورٹ دینے والی تھیں: امریکی میڈیا01 January, 2008 | پاکستان الیکشن ملتوی ہونے کا امکان 01 January, 2008 | پاکستان پرتشدد احتجاج میں کمی30 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||