فروری انتخابات پر خدشات برقرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد عام انتخابات آٹھ جنوری کے بجائے اٹھارہ فروری کو منعقد کرانے کے اعلان کے باوجود بھی اس بارے میں سیاسی حلقوں میں غیر یقینی والی کیفیت پائی جاتی ہے۔ حالانکہ صدر پرویز مشرف خود کہہ چکے ہیں کہ اٹھارہ فروری کو عام انتخابات ہوں گے اور یہ تاریخ ان کی بیگم اور بیٹی کی سالگرہ کی تاریخ ہے اور ہوسکتا ہے کہ اٹھارہ فروری کے عام انتخابات پاکستانی قوم کے لیے ان کے اہل خانہ کیطرف سے ’برتھ ڈے گفٹ‘ ہو۔لیکن اس کے باوجود بھی پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی کے شریک چئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ نواز کے سربراہ اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف انتخابات ایک بار پھر ملتوی ہونے کےخدشات ظاہر کر رہے ہیں۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد سے دونوں جماعتوں نے تاحال جذبے سے اپنی اپنی انتخابی مہم کا آغاز بھی نہیں کیا۔ البتہ مسلم لیگ (ق) کی انتخابی مہم اپنے زور شور سے جاری ہے اور پرویز الہیٰ اپنے ہر جلسہ میں آصف زرداری اور میاں برادران کے خلاف تابڑ توڑ حملے بھی کر رہے ہیں۔
بعض سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد پیپلز پارٹی یا بھٹو کے سیاسی حریفوں کے لیےحالات سازگار نہیں ہیں اور اٹھارہ فروری کو اگر انتخابات ہوئے تو پیپلز پارٹی پہلے کی نسبت بڑی اکثریت حاصل کرسکتی ہے۔ ایسی ہی رائے رکھنے والے تجزیہ کاروں میں کالم نگار حسن نثار بھی شامل ہیں، جو کہتے ہیں کہ ’بھٹو کا حامی یا مخالف ووٹ بینک اپنی اپنی جگہ اب بھی چٹان کی طرح رہے گا لیکن جو دیگر ووٹ ہے وہ بڑے پیمانے پر پیپلز پارٹی کو مل سکتا ہے۔‘ بقول حسن نثار کے پیپلز پارٹی کو بینظیر بھٹو کی شہادت سے پہلے کی نسبت ووٹ تو زیادہ ملےگا لیکن اس کی جو قیمت چکائی گئی وہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ نواز ہی نہیں بلکہ بیشتر سیاسی جماعتیں اور پوری پاکستانی قوم انتہائی غیر یقینی کا شکار ہے کہ آخر کیا ہوگا ؟ کچھ تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ جن عناصروں نے بینظیر بھٹو کو قتل کیا یا کروایا وہ محرم کے دوران بڑے پیمانے پر ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کرا سکتے ہیں اور صوبہ سندھ میں وسیع پیمانے پر لسانی فسادات ہو سکتے ہیں۔ آٹھ جنوری کےانتخابات ملتوی ہونے کے بارے میں حسن نثار کا کہنا ہے کہ ’محترمہ کی شہادت بہت بڑا سانحہ ہے اور جو لوگ اس حد تک جا سکتے ہیں وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں، یہ دعا کا وقت ہے اللہ کرے (برا وقت) ٹل جائے، جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ محرم الحرام بڑا خوفناک ہوسکتا ہے ان کا خدشہ ظاہر ہے کہ بے بنیاد نہیں ہے۔‘ بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ انتخابات ملتوی کرانے کے خواہاں عناصر انتخابات کی مانیٹرنگ کے لیے آنے والے مبصرین کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ لیکن کچھ مبصرین ایسے بھی ہیں جن کی رائے ہے کہ جس طرح عالمی سطح پر پاکستان کے انتخابات میں دلچسپی ظاہر کی جا رہی ہے اور ملک کے اندر سیاسی کشیدگی کی فضا بن رہی ہے، ایسے میں انتخابات کو اٹھارہ فروری سے آگے بڑھانا انتہائی مشکل ہوگا۔ | اسی بارے میں قاف لیگ پر دھاندلی کا الزام11 December, 2007 | پاکستان عام انتخابات آٹھ جنوری کے بجائے اٹھارہ فروری کو: الیکشن کمیشن02 January, 2008 | پاکستان ’ہنگامے زرداری اور شہباز نے کرائے‘02 January, 2008 | پاکستان بینظیر بھٹو کی کرزئی سے ملاقات27 December, 2007 | پاکستان جے یو آئی (س) نے بھی بائیکاٹ کردیا14 December, 2007 | پاکستان بائیکاٹ پرنظرثانی کریں: فضل الرحمان30 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||