عام انتخابات آٹھ جنوری کے بجائے اٹھارہ فروری کو: الیکشن کمیشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے انتخابی کمیشن نے ملک میں آٹھ جنوری کے عام انتخابات کو ملتوی کرتے ہوئے انہیں اب چالیس روز کی تاخیر سے اٹھارہ فروری کو منعقد کرانے کا اعلان کیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق نے انتخابات آٹھ جنوری کو منعقد کروانے کو ناممکن قرار دیتے ہوئے نئی تاریخ کا اعلان اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں کیا۔ ستائیس دسمبر کو راولپنڈی میں پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بےنظیر بھٹو کی خودکش حملے میں ہلاکت کے بعد سے آٹھ جنوری کے عام انتخابات شک میں پڑ گئے تھے۔ اس نئی تاریخ سے یہ غیریقینی صورتحال کے خاتمے کا امکان ہے۔ قاضی محمد فاروق نے انتخابات ملتوی کرنے کی بڑی وجہ صوبہ سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کی رپورٹیں بتائیں جن کے مطابق وہاں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سندھ میں امن عامہ کی صورتحال مخدوش ہوچکی ہے اور مواصلاتی نظام تقریبا تباہ ہوچکا ہے۔ چونکہ سرکاری عملے سے رابطہ نہیں ہوسکتا لہذا آٹھ جنوری کو انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔ صوبہ پنجاب کی حکومت کے موقف کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ وہاں تمام تعلیمی ادارے بند ہیں اور امن عامہ کے لئے رینجرز تعینات کیے گئے ہیں۔ سخت کشیدگی کے خدشے کے پیش نظر پنجاب حکومت نے انتخابات ماہ محرم کے بعد منعقد کرنے کو کہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کے مطابق صوبہ سرحد اور بلوچستان کی حکومتوں نے بھی بعض اضلاع میں اسی قسم کی مشکلات ظاہر کی ہیں۔ بقول چیف الیکشن کمشنر بیلٹ پیپرز کی اشاعت کا عمل بھی گزشتہ چار روز سے رکا ہوا ہے۔ ملکی صورتحال، چاروں صوبوں کے رپوٹوں اور سیاسی جماعتوں سے غیررسمی مشاورت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ آٹھ جنوری کو انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔ دس جنوری سے چونکہ ماہ محرم شروع ہو رہا ہے لہذا اب یہ عمل اٹھارہ جنوری کو منعقد کیے جائیں گے۔ تاہم انہوں نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کے کوئی زیادہ تفصیل نہیں بتائی۔ قاضی فاروق کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں باضابطہ اعلامیہ بھی جاری کیا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ابھی انتخابات فوج کی زیر نگرانی منعقد کروانے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کےالمناک واقع کے نتیجے میں پورے ملک میں پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد جہاں دیگر ادارے متاثر ہوئے ہیں وہاں آٹھ جنوری کو ہونے والے انتخابات کا عمل بھی متاثر ہوا۔ دریں اثناء پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد کا کہنا ہے کہ انتخابات کروانا حکومت کی ذمہ داری ہے فوج کی نہیں، تاہم اگر حکومت سمجھتی ہے کہ انتخابات میں امن و امان کے لیے فوج کی ضرورت پڑ سکتی ہے تو وہ باضابطہ طور پر فوج طلب کر سکتی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج کی قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ امن برقرار رکھنے کے لیے حکومت کی مدد کرے۔ |
اسی بارے میں بائیکاٹ پر قائم ہیں: اے پی ڈی ایم01 January, 2008 | پاکستان ’مختصر التواء میں حرج نہیں‘01 January, 2008 | پاکستان بینظیر انتخابی دھاندلی پر رپورٹ دینے والی تھیں: امریکی میڈیا01 January, 2008 | پاکستان الیکشن ملتوی ہونے کا امکان 01 January, 2008 | پاکستان پرتشدد احتجاج میں کمی30 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||