انتخابی مہم کے دوبارہ آغاز میں مشکلات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ستائیس دسمبر کو پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت سے انتخابی سرگرمیاں ماند پڑجانے کے بعد اب صوبہ سرحد میں سردی کی حالیہ لہر اور محرم الحرام کی وجہ سے سیاسی جماعتوں اور اٹھارہ فروری کو عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو انتخابی مہم کو دوبارہ شروع کرنے میں مشکلات درپیش ہیں ۔ اگر ایک طرف پاکستان پیپلز پارٹی صوبہ سرحد کے رہنماء ایک نئی انتخابی مہم کے ساتھ میدان میں اُترنے کو تیار ہیں تو دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی ، جمیعت علماءِ اسلام(فضل الرحمان) اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی نئے سرے سے انتخابی مہم شروع کرنے کو ہیں۔ لیکن محرم کے آغاز اور صوبہ سرحد کے اکثر علاقوں میں سردی کی لہر کی وجہ سے سیاسی جماعتیں اور انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار تردد کا شکار ہیں ۔ بی بی سی کے رابطہ کرنے پر جمیعت علماءِاسلام (فضل الرحمان) اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پی پی پی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت سے انتخابی مہم پر یقیناٌ منفی اثر پڑا ہے لیکن اُن کے بقول اس سے کہیں زیادہ انتخابی سرگرمیوں کی رفتار کو الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کے مؤخر کیے جانے کے فیصلے نے متاثر کیا ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی صوبہ سرحد کے جنرل سیکریٹری میاں افتخار حُسین کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت سے پہلے انتخابی سرگرمیاں کافی تیز رفتار سے آگے بڑھ رہی تھیں ’ لیکن اب انتخابات کی تاریخ کو چالیس دن آگے بڑھانے سے دوبارہ سے انتخابی مہم چلانی پڑے گی جس کے لیے سب سے پہلے تو ضروری ہے کہ اُس رفتار کو بحال کیا جائے جس پر بے نظیر بھٹو کی ہلاکت سے پہلے انتخابی سرگرمیاں آگے بڑھ رہی تھیں‘۔ جمیعت علماءِ اسلام (ف) صوبہ سرحد کے سیکرٹری اطلاعات حاجی جلیل جان کا ، جوکہ اپنی جماعت کی جانب سے قومی اسمبلی کی نشست این اے ون پشاور ون سے امیدوار بھی ہیں ، کہنا ہے کہ اُن کی جماعت کے امیدواروں کے انتخابی جلسے تو منعقد ہو رہے ہیں لیکن ’فی الحال چاردیواری کے اندر ایک سو سے ڈیڑھ سو افراد پر مشتمل اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ووٹروں کے گھروں پر جاکر رابطہ عوام مہم بھی قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کے ہر حلقے میں چل رہی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کی وجہ سے بڑے انتخابی جلسے منعقد کرنے کا جو سلسلہ رُک گیاتھا وہ فی الحال بحال نہیں ہو سکا‘۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے جلیل جان کا کہنا تھا کہ ایک تو صوبہ سرحد کے اکثر علاقوں میں پڑنے والی سردی کی وجہ سے بڑے انتخابی جلسوں میں عوام کی شرکت کو یقینی بنانا ایک مشکل کام ہوگا تو اس کے ساتھ ساتھ پی پی پی کے ستائیس دسمبر کے راولپنڈی کے جلسے میں خودکش بم دھماکے نے عوام کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب محرم کےپہلے دس دنوں میں فرقہ ورانہ کشیدگی کے خوف نے انتخابی مہم کو نئے سرے سے شروع کرنے کی راہ میں رکاوٹ حائل کر رکھی ہے‘۔
البتہ عوامی نیشنل پارٹی کے میاں افتخار حُسین کا کہنا ہے کہ محرم کے دوران کشیدگی کے احتمال کی وجہ سے پشاور اور دیگر شہری علاقوں میں انتخابی سرگرمیوں پر تو یقیناٌ منفی اثر پڑے گا لیکن دیہاتی علاقوں میں رابطہ عوام مہم چلتی رہے گی ۔ اُن کا ماننا تھا کہ اُن کی جماعت بھی فی الحال بڑے انتخابی جلسے منعقد نہیں کررہی کیونکہ ’ انتخابی سرگرمیوں کو ستائیس دسمبر کی رفتار پر لے جانے کے لیے کافی محنت کرنا پڑے گی‘۔ ستائیس دسمبر والی انتخابی سرگرمیوں کی رفتار بحال کرنے کے لیے مختلف سیاسی جماعتیں عوامی توجہ حاصل کرنے کے لیے نئی حکمتِ عملی کے ساتھ میدان میں اُترنے والی ہیں ۔ اس حوالے سے عوامی نیشنل پارٹی نے صوبہ بھر کے ضلعی صدر مقامات پر نو جنوری کو ’ملک میں مہنگائی ، بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ اور آٹے کی عدم دستیابی ’ کے خلاف احتجاجی مظاہرے منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس سلسلے میں پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان ضلع صوابی ، جہاں سے وہ قومی اسمبلی کے حلقے این اے بارہ سے امیدوار ہیں ، میں کرنل شیر خان چوک سے ایک احتجاجی مظاہرے کی سربراہی کریں گے‘۔ دوسری جانب جمیعت علماءِ اسلام (ف) نے بھی محرم کے پہلے عشرے کے بعد صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں میں انتخابی جلسوں میں پارٹی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور جمیعت ہی سے تعلق رکھنے والے صوبہ سرحد کے سابق وزیرِ اعلیٰ اکرم خان درانی کی شرکت کے حوالے سے پروگرام مرتب کیا ہے ۔ جبکہ پی پی پی نے بھی پارٹی سربراہ بے نظیر بھٹو کے انتقال کے سوگ کے ساتھ ساتھ انتخابی مہم کو ’نئی حکمتِ عملی‘ کے تحت دوبارہ سے چلانے کا پروگرام بنایا ہے ۔ پی پی پی ،سرحد کے سیکرٹری اطلاعات خواجہ یاور نصیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بی بی کے انتقال کے بعد اُن کی یاد میں تعزیتی ریفرنس منعقد کرنے کے بعد اب پی پی پی کے الیکشن مانیٹرنگ سیل نے انتخابی مہم چلانے کے لیے نئی حکمتِ مرتب کی ہے جس پر جلد ہی عملدرآمد شروع کردیا جائے گا‘۔ البتہ ، اُن کے مطابق، فی الحال بڑے انتخابی جلسوں کے حوالے سے پروگرام مرتب نہیں کیا گیا۔ ’انتخابی مہم کو ستائیس دسمبر والی رفتار پر لیجانا ہوگا ، اس سلسلے میں بڑے انتخابی جلسوں کو محرم کے پہلے دس روز کے بعد منعقد کرنےکے بعد پروگرام مرتب کرنے کا سوچیں گے‘ ۔ | اسی بارے میں 18 فروری انتخابات پر خدشات برقرار08 January, 2008 | پاکستان بی بی کے بعد سرحد میں پیپلز پارٹی07 January, 2008 | پاکستان طویل مہم سے اخراجات بھی زیادہ 04 January, 2008 | پاکستان الیکشن کی قسمت کا فیصلہ آج31 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||