BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 January, 2008, 03:03 GMT 08:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی بی کے بعد سرحد میں پیپلز پارٹی

بے نظیر بھٹو کی یاد میں(فائل فوٹو)
پشاور میں بے نظیر بھٹو کی یاد میں ایک تقریب میں شریک پیپلز پارٹی کے کارکن
سیاسی مبصرین اور پاکستان کی سرکردہ سیاسی جماعتوں کے صوبۂ سرحد سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد مرحومہ کی جماعت کو صوبے میں آئندہ عام انتخابات میں زیادہ نہیں تو کچھ نہ کچھ سیاسی فائدہ ملنے کا امکان ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (نواز) ، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) اور جمیعت علماءِ اسلام (فضل الرحمان) کے صوبۂ سرحد کے صدور سے جب بی بی سی نے رابطہ کیا تو ان تمام سیاسی قائدین کی رائے میں بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کی وجہ سے عوام کی بڑی تعداد کے سوگوار ہونے کے نتیجے میں پی پی پی کو صوبہ سرحد میں آئندہ انتخابات میں ہمدردی کی بنیاد پر ووٹ ملنے کا امکان ہے۔

پی پی پی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت سے پہلے سرحد کے کئی اضلاع بشمول پشاور، کوہاٹ، نوشہرہ، مردان، صوابی، چارسدہ، ملاکنڈ، سوات، دیر بالا اور دیر زیریں میں کانٹے دار مقابلہ کو دیکھتے ہوئے عام تاثر یہی پایا جاتا تھا کہ ان اضلاع میں مقابلہ پی پی پی اور اے این پی کے امیدواروں کے درمیان ہے۔

انتخابی مہم
 انتخابات کو مؤخر کیے جانے سے صحیح طور پر انتخابی مہم چلانے کا موقع مل گیا ہے ’کیونکہ پہلے جو انتخابی شیڈول دیا گیا تھا وہ ایک مؤثر انتخابی مہم چلانے کے لیے ناکافی تھا
مولانا گل نصیب
گو کہ کئی اضلاع میں اے این پی کا پلڑا بھاری دکھائی دیتا تھا لیکن بے نظیر بھٹو کے صوبہ سرحد کے بار بار دوروں کی وجہ سے پی پی پی کے امیدواروں کی انتخابی مہم بھی زور پکڑتے دکھائی دے رہی تھی ۔

عوامی نیشنل پارٹی صوبہ سرحد کے صدر افراسیاب خٹک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کو آٹھ جنوری کی بجائے اٹھارہ فروری کو منعقد کرنے کی اصل وجہ حکومت کے پسندیدہ امیدواروں کو فائدہ پہنچانا تھا۔

بی بی سی کے پوچھنے پر اُنہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ انتخابات کے مؤخر کیے جانے کا کچھ نہ کچھ فائدہ صوبۂ سرحد کی حد تک تو عوامی نیشنل پارٹی کو بھی ہوا ہے کیونکہ صوبہ سرحد کے کئی اضلاع میں اے این پی اور پی پی پی کے درمیان ہی مقابلہ تھا۔

ُانہوں نے انتخابات کے مؤخر کیے جانے کے فیصلے کو حدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ سرحد کے کئی علاقوں میں تو انتخابی مہم کافی آگے بڑھ چکی تھی اور وہاں انتخابات بر وقت ہوسکتے تھے۔

افراسیاب خٹک کے تاثرات کے برعکس سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابات کے تاخیر سے انعقاد کا بہرحال اے این پی کو فائدہ ہوگا۔ اس تاثر کی بنیاد اے این پی کے صدر اسفندیار ولی کا وہ بیان ہے جس میں اُنھوں نے بے نظیر بھٹو کے ہلاکت کے بعد کی صورتِحال کے پیشِ نظر انتخابات کو مؤخر کرنے کے حمایت کی تھی۔

’انتظامیہ کی خام خیالی‘
 اگر ان (اسٹیبلشمنٹ) کا یہ خیال ہو کہ انتخابات مؤخر کرنے سے پی پی پی کو ہمدردی کی وجہ سے ملنے والے ووٹ نہیں پڑیں گے تو خام خیالی ہے کیونکہ پی پی پی کو تیس سال سے ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی کی وجہ سے حاصل شدہ ہمدردی میں تو کمی آئی نہیں تو عوام کیسے ستائیس دسمبر کو ہونے والے بے نظیر بھٹو کے قتل کو بھول جائیں گے۔
صابر شاہ
پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے صوبہ سرحد کے صدر پیر صابر شاہ کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’اگر ان (اسٹیبلشمنٹ) کا یہ خیال ہو کہ انتخابات مؤخر کرنے سے پی پی پی کو ہمدردی کی وجہ سے ملنے والے ووٹ نہیں پڑیں گے تو خام خیالی ہے کیونکہ پی پی پی کو تیس سال سے ذولفقار علی بھٹو کی پھانسی کی وجہ سے حاصل شدہ ہمدردی میں تو کمی آئی نہیں تو عوام کیسے ستائیس دسمبر کو ہونے والے بے نظیر بھٹو کے قتل کو بھول جائیں گے‘۔

پی پی پی سے اختلاف رکھنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) کے سرحد کے صدر پرویز خٹک بھی، جو کافی عرصہ پی پی پی میں رہے ہیں، اس تاثر سے اتفاق کرتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے نتیجے میں ’پی پی پی کے امیدواروں کو بہرحال ہمدردی کی بنیاد پر ووٹ ملیں گے‘۔

بے نظیر بھٹو کے سرحد کے بار بار دوروں کی وجہ سے پی پی پی کے امیدواروں کی انتخابی مہم بھی زور پکڑتے دکھائی دے رہی تھی۔
بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کی وجہ سے جہاں پی پی پی کے امیدواروں کو صوبۂ سرحد میں معمولی سا فائدہ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے وہیں دوسری جانب پی پی پی کی سربراہ کے قتل کی وجہ سے صوبۂ سرحد میں گزشتہ پانچ سالوں سے حکومت کرنے والے اتحاد متحدہ مجلسِ عمل ، خصوصاٌ اس کی قلیدی جماعت جمیعت علماءِ اسلام ،پر انتخابات کے مؤخر کیے جانے سے منفی اثرات پڑنے کا امکان ہے۔

ستائیس دسمبر سے پہلے جمیعت علماءِ اسلام کو صوبے میں ایک سے زیادہ مشکلات کا سامنا تھا۔ جماعتِ اسلامی کے انتخابات کے بائیکاٹ اور جمیعت علماءِ اسلام کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے مولانا فضل الرحمان کی جماعت تناؤ کا شکار تھی تو دوسری جانب پچھلے پانچ سالہ دورِ اقتدار کے دوران کی گئی غلطیوں کے بوجھ نے ان کے امیدواروں کو مشکلات سے دوچار کیا ہوا تھا۔

اسی لیے مبصرین کے خیال میں بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد جمیعت علماءِ اسلام بھی انتخابات کے مؤخر کیے جانے کے حق میں تھی۔

جے یو آئی کے صوبائی صدر سینیٹر مولانا گل نصیب کا کہنا تھا کہ انتخابات کو مؤخر کیے جانے سے صحیح طور پر انتخابی مہم چلانے کا موقع مل گیا ہے ’کیونکہ پہلے جو انتخابی شیڈول دیا گیا تھا وہ ایک مؤثر انتخابی مہم چلانے کے لیے ناکافی تھا‘۔

لیکن ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ انتخابی مہم چھ ہفتے تک مزید بڑھنے سےجمیعت علماءِ اسلام کو نقصان ہونے کا امکان ہے کیونکہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد نہ صرف پی پی پی کی عوامی تائید میں اضافہ متوقع ہے بلکہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ لوگ جن کی نظر میں مذہبی انتہا پسندی بے نظٌیر بھٹو کی ہلاکت کی وجہ بنی وہ اس کے امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے سے اجتناب کریں گے۔

اسی بارے میں
اٹھارہ فروری بہت دور ہے
03 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد