بی بی کے بعد سرحد میں پیپلز پارٹی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیاسی مبصرین اور پاکستان کی سرکردہ سیاسی جماعتوں کے صوبۂ سرحد سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد مرحومہ کی جماعت کو صوبے میں آئندہ عام انتخابات میں زیادہ نہیں تو کچھ نہ کچھ سیاسی فائدہ ملنے کا امکان ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (نواز) ، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) اور جمیعت علماءِ اسلام (فضل الرحمان) کے صوبۂ سرحد کے صدور سے جب بی بی سی نے رابطہ کیا تو ان تمام سیاسی قائدین کی رائے میں بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کی وجہ سے عوام کی بڑی تعداد کے سوگوار ہونے کے نتیجے میں پی پی پی کو صوبہ سرحد میں آئندہ انتخابات میں ہمدردی کی بنیاد پر ووٹ ملنے کا امکان ہے۔ پی پی پی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت سے پہلے سرحد کے کئی اضلاع بشمول پشاور، کوہاٹ، نوشہرہ، مردان، صوابی، چارسدہ، ملاکنڈ، سوات، دیر بالا اور دیر زیریں میں کانٹے دار مقابلہ کو دیکھتے ہوئے عام تاثر یہی پایا جاتا تھا کہ ان اضلاع میں مقابلہ پی پی پی اور اے این پی کے امیدواروں کے درمیان ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی صوبہ سرحد کے صدر افراسیاب خٹک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کو آٹھ جنوری کی بجائے اٹھارہ فروری کو منعقد کرنے کی اصل وجہ حکومت کے پسندیدہ امیدواروں کو فائدہ پہنچانا تھا۔ بی بی سی کے پوچھنے پر اُنہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ انتخابات کے مؤخر کیے جانے کا کچھ نہ کچھ فائدہ صوبۂ سرحد کی حد تک تو عوامی نیشنل پارٹی کو بھی ہوا ہے کیونکہ صوبہ سرحد کے کئی اضلاع میں اے این پی اور پی پی پی کے درمیان ہی مقابلہ تھا۔ ُانہوں نے انتخابات کے مؤخر کیے جانے کے فیصلے کو حدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ سرحد کے کئی علاقوں میں تو انتخابی مہم کافی آگے بڑھ چکی تھی اور وہاں انتخابات بر وقت ہوسکتے تھے۔ افراسیاب خٹک کے تاثرات کے برعکس سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابات کے تاخیر سے انعقاد کا بہرحال اے این پی کو فائدہ ہوگا۔ اس تاثر کی بنیاد اے این پی کے صدر اسفندیار ولی کا وہ بیان ہے جس میں اُنھوں نے بے نظیر بھٹو کے ہلاکت کے بعد کی صورتِحال کے پیشِ نظر انتخابات کو مؤخر کرنے کے حمایت کی تھی۔
پی پی پی سے اختلاف رکھنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (شیرپاؤ) کے سرحد کے صدر پرویز خٹک بھی، جو کافی عرصہ پی پی پی میں رہے ہیں، اس تاثر سے اتفاق کرتے ہیں کہ بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے نتیجے میں ’پی پی پی کے امیدواروں کو بہرحال ہمدردی کی بنیاد پر ووٹ ملیں گے‘۔
ستائیس دسمبر سے پہلے جمیعت علماءِ اسلام کو صوبے میں ایک سے زیادہ مشکلات کا سامنا تھا۔ جماعتِ اسلامی کے انتخابات کے بائیکاٹ اور جمیعت علماءِ اسلام کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے مولانا فضل الرحمان کی جماعت تناؤ کا شکار تھی تو دوسری جانب پچھلے پانچ سالہ دورِ اقتدار کے دوران کی گئی غلطیوں کے بوجھ نے ان کے امیدواروں کو مشکلات سے دوچار کیا ہوا تھا۔ اسی لیے مبصرین کے خیال میں بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد جمیعت علماءِ اسلام بھی انتخابات کے مؤخر کیے جانے کے حق میں تھی۔ جے یو آئی کے صوبائی صدر سینیٹر مولانا گل نصیب کا کہنا تھا کہ انتخابات کو مؤخر کیے جانے سے صحیح طور پر انتخابی مہم چلانے کا موقع مل گیا ہے ’کیونکہ پہلے جو انتخابی شیڈول دیا گیا تھا وہ ایک مؤثر انتخابی مہم چلانے کے لیے ناکافی تھا‘۔ لیکن ایک عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ انتخابی مہم چھ ہفتے تک مزید بڑھنے سےجمیعت علماءِ اسلام کو نقصان ہونے کا امکان ہے کیونکہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد نہ صرف پی پی پی کی عوامی تائید میں اضافہ متوقع ہے بلکہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ لوگ جن کی نظر میں مذہبی انتہا پسندی بے نظٌیر بھٹو کی ہلاکت کی وجہ بنی وہ اس کے امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے سے اجتناب کریں گے۔ | اسی بارے میں ’پیپلزپارٹی کی ساکھ کو دھچکا لگا ہے‘06 January, 2008 | پاکستان ’خود کش حملے، تحقیق کا مطالبہ‘ 02 January, 2008 | پاکستان اٹھارہ فروری بہت دور ہے03 January, 2008 | پاکستان زرداری کی سکیورٹی کا مطالبہ05 January, 2008 | پاکستان بینظیر کی نشست پر انتخاب ملتوی04 January, 2008 | پاکستان بینظیر کیس میں مدد کو تیار: فرانس02 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||