’خود کش حملے، تحقیق کا مطالبہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں دینی مدارس کی تنظیم وفاق المدارس العربیہ نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو پر جان لیوا حملے سمیت ملک میں ہونے والے خود کش حملے ایک قومی مسئلہ ہیں اور اس پر متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے حکومت فوری طور پر علماء ، دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں کو مدعو کیا جائے۔ وفاق المدارس کےسیکریٹری جنرل حنیف جالندھری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ بھی مطالبہ کیا کہ پاکستان میں حالیہ برسوں میں تشدد کے واقعات کی تحقیقات کے لیےایک اعلی سطحی غیرجانبدارانہ، آزاد اور منصفانہ عدالتی کمیشن قائم کیا جائے جس کی سربراہی اس چیف جسٹس آف پاکستان کو سونپی جائے جس پر قوم کو اعتماد ہو تاکہ ان حملوں میں ملوث عناصر اور ان کے پس پردہ افراد بے نقاب ہوں جو انہیں تربیت، پیسہ اور اسلحہ دیتے ہیں۔ انہوں نےاس تاثر کی سختی سے تردید کی کہ خود کش حملوں میں ملوث عناصر کا دینی مدارس سے کوئی تعلق ہے یا ان کے پیچھے مذہبی سوچ کار فرما ہے۔ ’پاکستان میں آج تک جتنے بھی خود کش حملے ہوئے ان میں ملوث کسی بھی خود کش حملہ آور کا کسی دینی مدرسے تعلق ثابت نہیں ہوا۔‘
حنیف جالندھری اس تاثر کو رد کیا کہ علماء نےغلبہ اسلام کے نام پر افغان یا پاکستانی طالبان کی جانب سے ہونے والی تشدد کی کارروائیوں کی کبھی کھل کر مذمت نہیں کی۔ ’ہم نے تو اس سلسلے میں سترہ مئی 2005ء کو باقاعدہ فتوی جاری کیا تھا کہ کسی بھی بےگناہ انسان کا قتل خواہ وہ مسلمان ہو یا غیرمسلمان اور وہ مسلمان ملک میں رہتا ہے اور اس کے قانون کی پابندی کرتا ہے اس کا قتل جائز نہیں۔ پاکستان کے ساٹھ کے قریب جید علماء اور مفتیان کرام نے دستخط کئے تھے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ خود کش حملوں کے رجحان کے پیچھے سیاسی اور دوسرے عوامل بھی کارفرما ہیں۔’ان حملوں کے بہت سارے اسباب ایسے ہیں جن کا تعلق دین سے نہیں بلکہ ہماری ریاستی پالیسیوں اور سیاسی فیصلوں سے ہے۔‘ پاکستان میں 2007ء کے دوران باون سے زیادہ خود کش حملے ہوئے جن میں لگ بھگ چھ سو لوگ مارے گئے۔ حنیف جالندھری کا اصرار ہے کہ خود کش حملے عالمی قوتوں اور پاکستانی حکومت کی پالیسیوں کا ردعمل ہیں اور انہیں روکنا علماء سے زیادہ حکومت کے اختیار میں ہے۔ ’جب تک حکومتیں اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کریں گی تمام علماء ملکر بھی انہیں نہیں روک سکتے۔‘ ’جب طاقت کا استعمال قانون بن جائے اور فیصلے دلائل اور حقائق کی بنیاد پر نہ ہوں بلکہ طاقت کی بنیاد پر ہوں اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا ایک جنگل کا قانون رائج ہو تو پھر ہر عمل کا ایک ردعمل ہوتا ہے۔لوگ ریاستی جبر و تشدد کا نشانہ بنیں گے تو نتیجتاً ان کے اندر ایک ردعمل پیدا ہوگا۔‘ دینی مدارس میں نصابی تعلیم کے حوالے سے حنیف جالندھری نے کہا کہ مدارس کا اپنے نصاب کو عصر حاضر کے تقاضوں کےمطابق وقتاً فوقتاً تبدیل کرنے کا ایک نظام ہے اور مدارس امن اور تحمل و برداشت کی تعلیم دیتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پچھلے سال جتنی بڑی تعداد میں خودکش حملے ہوئے اور ان میں سینکڑوں لوگ مارے گئے تو ان حالات میں اس بات کی اہمیت زیادہ بڑھ گئی ہے کہ ہم اس ایشو پر زیادہ توجہ دیکر اپنے طلبہ کو تعلیم دیں اور انہیں تشدد سے نفرت کرنا سکھائیں۔‘ |
اسی بارے میں فضائی کارروائی، اٹھارہ افراد ہلاک31 July, 2007 | پاکستان مہمندایجنسی: مزار پرلال مسجد کابورڈ29 July, 2007 | پاکستان لال مسجد کےارد گرد خاردار تار28 July, 2007 | پاکستان شمالی وزیرستان میں طالبان کا دعویٰ25 July, 2007 | پاکستان دو فوجی 35 حملہ آور ہلاک23 July, 2007 | پاکستان باجوڑ طالبان اور دکانداروں کامعاہدہ23 July, 2007 | پاکستان ہنگو اور حب میں دھماکے، 33 ہلاک19 July, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||