’پیپلزپارٹی کی ساکھ کو دھچکا لگا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر متحدہ مجلس عمل کے رہنماء مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد سندھ میں جلاؤ گھیراؤ اور مار دھاڑ کے واقعات سے پیپلز پارٹی کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں سرحد اور پنجاب کی ٹرانسپورٹ اور کراچی میں املاک کو نذر آتش کرنے کے واقعات کے بعد پیپلز پارٹی کےاقتدار میں آنے کے بعد کیا اس سے کس قسم کی توقعات وابستہ کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک سیاسی جماعت ہے اسے احساس ذمہ داری ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے رویہ پر کاربند ہوتی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بینظیر کے قتل کے بعد فوری رد عمل میں حکومت کی جانب سے بیت اللہ محسود پر الزام عائد کرنا حکومت کی جلد بازی تھی حالانکہ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کے بعد شواہد سامنے لاتی۔ انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں قائم اپنےمرکزی الیکشن آفس میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک طرف قاف لیگ کو قاتل لیگ قرار دے رہی ہے جبکہ دوسری طرف اس کےامیدوار نے ڈیرہ اسماعیل میں مسلم لیگ قاف سےاتحاد کر کے اپنے اس دعوی کی نفی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود پیپلز پارٹی نے پہلے سکاٹ لینڈیارڈ کی تحقیقاتی ٹیم سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا جب وہ ٹیم یہاں پہنچ گئی ہے تو انہوں نے اعتراض شروع کر دیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے طول و عرض میں بجلی گیس اور آٹے کا بحران حکومت کا پیدا کردہ ہے اور اس کا مقصد اصل مسائل سے توجہ ہٹانا ہے۔ | اسی بارے میں قاضی، فضل الرحمن تحریک کا اعلان13 July, 2007 | پاکستان سپریم کورٹ کے ’دہرے معیار‘پر فکر18 December, 2006 | پاکستان نواز، فضل ملاقات تین گھنٹے تک16 September, 2007 | پاکستان اکیلے بائیکاٹ نہیں :اے این پی30 November, 2007 | پاکستان الیکشن کا بائیکاٹ: نواز شریف29 November, 2007 | پاکستان 13,490 کاغذاتِ نامزدگی وصول30 November, 2007 | پاکستان عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک29 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||