BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 13 July, 2007, 04:39 GMT 09:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قاضی، فضل الرحمن تحریک کا اعلان

’جرنیلوں نے عالمی طاقتوں کی تائید حاصل کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا‘
حکومت اور فوج کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے متحدہ مجلسِ عمل کے دو اہم رہنماؤں قاضی حُیسن احمد اور مولانا فضل الرحمن نے لال مسجد آپریشن اور وہاں رشید غازی کی ساتھیوں سمیت ہلاکت کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔


اسلام آباد میں قاضی حُسین احمد کی رہائش گاہ پر ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں جماعتِ اسلامی کے امیر قاضی حُسین احمد اور قومی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ لال مسجد کے خلاف کیا جانے والا آپریشن پاکستان پر مسلط جرنیلوں نے عالمی طاقتوں کی تائید حاصل کرنے کے لیے کیا۔

مولانا فضل الرحمن نے جنرل مشرف کو زبردست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے یہ سب کچھ اپنا اقتدار کو بچانے کے لیے کیا اور اس عمل سے ملک کی سلامتی کو شدید خطرہ ہے اور ملک خانہ جنگی کی طرف جا سکتا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب کچھ فوج نے کیا، کیونکہ کہ جب یہ آپریشن کیا گیا اُس وقت ملک میں نہ تو وزیر داخلہ تھے اور نہ ہی سیکرٹری داخلہ۔

قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ فوج کےاس آپریشن سے شمالی وزیرستان میں جو معاہدہ ہوا تھا وہ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

پریس کانفرنس میں موجود جمیعت علماء اسلام کے غفور حیدری کا کہنا تھا کہ حکومت ہلاک ہونے والوں کی تعداد کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اور اُن کے اندازے کے مطابق لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار سو سے ایک ہزار تک ہو سکتی ہے۔

غفورحیدری کا کہنا تھا کہ اُن کی اطلاعات کے مطابق ایک تابوت میں ایک سے زائد لاشوں کو دفنایا جا رہا ہے۔

مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ حکومت جو کئی بار یہ کہہ چُکی ہے کہ پاکستان کے مدرسوں میں کسی قسم کی دہشت گردی کی تعلیم نہیں دی جاتی، لیکن اب حکومت اسلام آباد کی لال مسجد کو جواز بنا کر ملک بھر کے مدرسوں کو دھمکیاں دے رہی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ وہ مسلح جدوجہد کے حق میں نہیں ہیں لیکن وہ ملک بھر میں علما کے ساتھ مل کر دینی مدارس کے استحقاق کی جنگ لڑتے رہیں گے۔

پریس کانفرنس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ اگر عبدالرشیدغازی اور اُن کے ساتھیوں کے پاس اتنا اسلحہ ہوتا جتنا کہ اب دکھایا جارہا، تو وہ لوگ کئی دن تک لڑ سکتے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد