چارلس ہویلینڈ بی بی سی نیوز، کابل |  |
 | | | افغانستان میں خودکش حملوں میں سن 2006 سے تیزی آئی ہے |
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں حملے کرنے والے خودکش بمباروں میں نصف سے زیادہ افغان شہری نہیں ہیں۔ یہ رپورٹ افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن کے ذریعے کرائے جانے والے ایک سروے پر مبنی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق اسی فیصد سے زائد حملہ آوروں کی تقرری اور تربیت پاکستان میں ہوتی ہے اور وہیں انہیں پناہ حاصل ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران افغانستان میں ہونے والے ایسے حملوں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سن 2005 تک افغانستان میں خودکش حملے شاید ہی ہوتے تھے۔ لیکن گزشتہ ایک سو تئیس حملے ہوئے جبکہ اس سال اگست کے آخر تک 103 حملے ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام اب ایسے حملے روک رہے ہیں اور جو ہوتے ہیں ان میں ہلاکتیں کم ہو رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ حملہ آور افغان اور غیرملکی سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے ہیں تاہم ہلاک ہونے والوں میں اسی فیصد عام شہری ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق حملہ آوروں میں نصف سے کم افغان شہری ہیں جبکہ باقی غیرملکی ہیں اور ان کا تعلق پاکستان، عرب ممالک اور وسطی ایشیا سے ہے۔  | مدرسوں کے فارغ  رپورٹ میں افغانستان اور دیگر ممالک میں سرگرم خودکش بمباروں کا موازنہ بھی کیا گیا ہے جس کے مطابق افغانستان میں حملے کرنے والے بمبار کم پڑھے لکھے، غریب اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں واقع مدرسوں کے فارغ ہیں۔  |
رپورٹ میں افغانستان اور دیگر ممالک میں سرگرم خودکش بمباروں کا موازنہ بھی کیا گیا ہے جس کے مطابق افغانستان میں حملے کرنے والے بمبار کم پڑھے لکھے، غریب اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں واقع مدرسوں کے فارغ ہیں۔رپورٹ ترتیب کرنے والوں نے بیس سے زائد ناکام خودکش بمباروں کے انٹرویو کیے جن کی عمریں پندرہ سے پچاس سال کے درمیان تھیں۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ انہیں بہلایا پھسلایا گیا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ وہ ہلاک نہیں ہونگے اور انہیں مالی انعام دیا جائے گا۔ جبکہ انٹرویو کے دوران بعض ناکام بمباروں نے بتایا کہ وہ خود ہی حملہ کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ افغانستان میں غیرملکی افواج کی موجودگی، شہریوں کی ہلاکتوں اور افغان حکومت میں کرپشن کے واقعات پر غصہ تھے۔ کئی افراد نے یہ بتایا کہ انہیں افسوس ہے کہ خودکش حملوں میں عام شہری ہلاک ہوئے لیکن انہیں یقین تھا کہ ہلاک ہونے والے یہ افراد جنت میں جائیں گے۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خودکش حملہ آوروں میں کوئی خواتین نہیں تھیں اور حملوں سے قبل کسی سے کوئی بیان نہیں لیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ خودکش حملوں سے افغان ریاست میں عام شہریوں کا اعتماد کم ہوجاتا ہے۔ رائے شماری کے جائزوں کے حوالے سے یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لگ بھگ دس فیصد سے زائد افغان ایسے حملوں کو ہمیشہ یا کبھی کبھی جائز تصور کرتے ہیں۔
|