اسامہ کے ’استاد‘ پشاور سے رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پشاور کی ایک مقامی عدالت نے خود کو اسامہ بن لادن کے استاد کہنے والے اردن کے شاہی خاندان کے عبدالکریم اور امام مدینہ کے بھتیجے سید عبداللہ شاہ ہاشمی کو بری کردیا ہے۔ دونوں پر الزام تھا کہ وہ القاعدہ کے مبینہ بانی اورجہادی رہنما عبداللہ عظام کے قریبی ساتھی تھے اور انہوں نے القاعدہ کے رہنماؤں کو جنگی تربیت دی تھی۔ پشاور میں ایڈیشنل سیشن جج اختیار خان کی عدالت نے سنیچر کو دونوں کو ان الزامات سے بری کردیا۔ پشاور سینٹرل جیل سے رہائی پانے کے بعد انہوں نے ورلڈ جہاد کونسل کے چیئرمین جاوید ابراہیم پراچہ کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔ جاوید ابراہیم پراچہ نے صحافیوں کو بتایا کہ عبدالکریم کو چار سال قبل پشاور سے جبکہ سید عبداللہ شاہ ہاشمی کو سات سال پہلے قبائلی علاقے جمرود سے پاکستانی سکیورٹی فورسز نے گرفتار کیا تھا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ گرفتاری کے بعد دونوں کو تفتیش کے لیے پاکستان میں موجود امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے اہلکاروں کے حوالے کیا گیا تھا اور بقول ان کے اس دوران ان سے جی ایچ کیو میں آئی ایس آئی کی طرف سے بھی تفتیش ہوتی رہی۔
تاہم ان کے بقول انہوں نے گیارہ نومبر دوہزار چھ کو سپریم کورٹ میں دونوں کی رہائی کی درخواست دائر کردی اور کورٹ نے انہیں صوبہ سرحد منتقل کرنے کا فیصلہ سنایا اور ایڈیشنل سیشن جج پشاور نے سنیچر کو دونوں کی رہائی کے احکامات جاری کردیے۔ جاوید پراچہ کا کہنا تھا کہ دونوں افراد سنیچر کی رات کو امام کعبہ کے ساتھ اسلام آباد میں ملاقات بھی کریں گے۔ نیوز کانفرنس کے بعد بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے اردن کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے پچاس سالہ عبدالکریم کا کہنا تھا کہ وہ اردن میں القاعدہ کے مبینہ بانی اور جہادی رہنما عبداللہ عظام سے ملاقات کے بعد انیس سو بیاسی کو افغانستان میں سابقہ سویت یونین کے خلاف جہاد کرنے پشاور آئے تھے اور بعد میں انہوں نے آّٹھ سال تک افغانستان میں روس کی خلاف جہاد میں حصہ لیا۔ عبدالکریم نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے انیس سو تراسی اور چوراسی میں دو سال تک القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو افغانستان کے مشرقی شہر جلال آباد میں جنگی تربیت دی تھی۔ ان کے بقول’اسامہ بن لادن ایک اچھے انسان تھے جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنا وطن اور گھر بار چھوڑدیا ہےاور اب دہشت گردی کی کارروائیوں میں ان کو بدنام کیا جارہاہے۔‘
عبدالکریم نے بتایا کہ چار سال قبل گرفتاری کے بعد انہیں ایف بی آئی کے حوالے کیا گیا جس کے اہلکار ان سے اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے متعلق سوالات پوچھتے رہے۔ ان کے مطابق حراست کے دوران ان کے ہاتھ پیر باندھ دیے گئے تھے اور تقریباً چار ماہ تک ان کا چہرہ ڈھانپا گیا تھا۔ عبدالکریم کے مطابق ایف بی آئی کے اہلکار انہیں تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جب تک اسلامی ریاست کی تشکیل نہیں ہوتی اور امیرالمومنین جہاد کا اعلان نہیں کرتے تب تک امریکہ کے خلاف جہاد کرنا جائز نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ القاعدہ کی جانب سے مبینہ طور پر ہونے والے بم دھماکے غیرشرعی ہیں کیونکہ معصوم لوگوں کو مارنا ایک غیر اسلامی فعل ہے۔ عبدالکریم کا کہنا تھا کہ وہ اپنے آبائی وطن اردن واپس نہیں جائیں گے بلکہ پاکستان میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔ واضح رہے کہ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد افغانستان میں امریکی حملے کے نتیجے میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد سینکڑوں غیرملکی فرار ہوکرپاکستان آئے تھے۔ پاکستان حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے القاعدہ سے تعلق رکھنے کے الزام میں تقریباً سات سو افراد کو امریکی حکومت کے حوالے کردیا ہے۔ |
اسی بارے میں ’اسامہ پاکستان میں کردار چاہتے تھے‘18 March, 2006 | پاکستان مشرف کا تختہ الٹ دیں: الظواہری29 April, 2006 | پاکستان اسامہ کو گرفتار کیا جائے گا: پاکستان06 September, 2006 | پاکستان ’اسامہ کو پکڑنا ہماری ترجیح ہے‘28 February, 2006 | پاکستان اسامہ کہیں اور ہو تو اچھا ہے: مشرف26 September, 2005 | پاکستان ’اسامہ چترال میں موجود نہیں‘22 December, 2006 | پاکستان ’اسامہ پاکستان میں ہو سکتے ہیں‘14 June, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||