’اسامہ چترال میں موجود نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شمالی ضلع چترال میں مختلف سیاسی جماعتوں نے افغان حکومت کی جانب سے لگائے جانیوالے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ چترال کے ایک باشندے نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو افغاستان کے صوبے نورستان سے چترال لانے میں مدد فراہم کی تھی۔ چترال سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جمعہ کو چترال کے ضلعی ناظم حاجی مغفرت شاہ کی سربراہی میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں چترال کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے نمائندوں کے علاوہ بار کونسل، تاجر برادری اور اساتذہ کے رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں افغان حکومت کی طرف سے لگائے جانے والے ان الزامات کی سختی سے تردید کی گئی کہ چترال کے علاقے ارندو سے تعلق رکھنے والے ایک باشندے سید اکبر نے افغان حکومت کے سامنے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ سال انہوں نے اسامہ بن لادن کو نورستان سے چترال آنے میں مدد دی تھی۔ اس موقع پر ضلعی ناظم نے کہا کہ چترال میں نہ تو کوئی دہشت گرد ہے اور نہ یہاں کے عوام نے کبھی دہشت گردوں کی مدد کی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ’جغرافیائی حالات کے مطابق یہاں کوئی دہشت گرد چھپ نہیں سکتا ہے جو الزامات لگتے ہیں وہ سب بے بنیاد ہیں‘۔ واضع رہے کہ چار دن قبل افغان حکومت نے دعوٰی کیا تھا کہ اس نے پاکستان کے ایک خفیہ ایجنٹ کوگرفتار کیا ہے جو القاعدہ کے رہنماؤں کے ساتھ رابطے کا کام کرتا ہے ۔ افغان حکومت کے ترجمان کریم رحیمی کا کہنا تھا کہ سید اکبر کا تعلق شمالی پاکستان کے علاقے چترال سے ہے جس کی سرحد افغان صوبے نورستان سے ملتی ہے۔ ان کے مطابق سید اکبر آئی ایس آئی کے اس شعبے کے انچارج ہیں جس کا کام القاعدہ رہنماؤں سے تعلق قائم رکھنا ہے۔ افغان حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ مبینہ پاکستانی ایجنٹ نے اپنی ’غیر قانونی سرگرمیوں‘ کا اقرار کر لیا ہے جس میں گزشتہ سال اسامہ بن لادن کو نورستان سے چترال لے جانا بھی شامل ہے۔ تاہم حکومت پاکستان کی جانب سے ابھی تک ان الزامات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں افغانستان: پاکستانی ’ایجنٹ‘ گرفتار19 December, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||