BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
القاعدہ: ایک ہزار ہلاک

القاعدہ کے رہنما کی تصویر پکڑے پاکستان کے وزیرِ داخلہ شیر پاؤ
پاکستان سے القاعدہ کے بڑے بڑے رہنما گرفتار کیئے گئے ہیں
پاکستان میں گزشتہ چار برسوں کے دوران ایک غیرسرکاری تنظیم کے جائزے کے مطابق اب تک القاعدہ سے تعلق کے شبے میں ایک ہزار سے زائد غیر ملکی افراد گرفتار کیئے جا چکے ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد میں القاعدہ کے جنگجو ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

پاک انسٹیٹوٹ آف پیس سٹڈیز یا پپس نے یہ اعداد و شمار پاکستانی ذرائع ابلاغ میں اس قسم کی گرفتاریوں کی خبروں کو جمع کر کے اکھٹے کیئے ہیں۔

ان اعداد و شمار میں القاعدہ سے تعلق کے شبے میں قبائلی علاقوں سے گرفتار کیئے جانے والے تمام افغان یا پاکستانی شامل نہیں ہیں بلکہ صرف اہم افراد کو شریک کیا گیا ہے۔

جنوری سن دو ہزار دو سے اس سال مئی تک کے تازہ جائزے کے مطابق القاعدہ کے خلاف جاری کارروائیوں میں گرفتاریوں کے علاوہ ایک ہزار القاعدہ جنگجو پاکستان میں ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

پاکستانی حکام اب تک سرکاری سطح پر القاعدہ کے صرف چھ سو ساٹھ غیرملکیوں کی گرفتاری کا اعتراف کرتے ہیں۔

القاعدہ سے تعلق
 جن ممالک کے لوگ گرفتار ہوئے ہیں ان میں سعودی عرب پہلے نمبر پر ہے جس کے چھیاسی شہری گرفتار کیئے گئے ہیں، دوسرے نمبر پر ستر باشندوں کے ساتھ الجیریا ہے
ایک جائزہ

سروے میں کن کن ممالک سے تعلق رکھنے والے کتنے افراد گرفتار کیئے گئے ہیں ان کی تفصیل بھی جمع کی گئی ہے۔ فہرست کے مطابق ممالک میں سعودی عرب پہلے نمبر پر ہے جہاں سے تعلق کے شبے میں چھیاسی افراد کو گرفتار کیا گیا۔ دوسرے نمبر پر الجیریا ستر باشندوں کی حراست کے ساتھ ہے۔

دیگر ممالک اور ان کے گرفتار افراد کی تعداد کے مطابق انڈونیشنا اٹھائیس، متحدہ عرب امارات بائیس، مراکش اور مصر بیس بیس، ملائشیا اٹھارہ، لیبیا گیارہ، کویت سات جبکہ مغربی ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے چھتیس شہری گرفتار ہوئے ہیں۔

ان گرفتاریوں میں مغربی ممالک کے اٹھارہ باشندے بھی گرفتار ہوئے۔ ان میں امریکہ سے پانچ، آسٹریلیا سے دو اور برطانیہ سے گیارہ شامل ہیں۔ جائزے کے مطابق فرانس اور جرمنی سے بھی نامعلوم تعداد میں لوگ قانون کی گرفت میں آئے۔

تاہم جائزے میں بڑی تعداد میں گرفتار ہونے والے ازبک، چچن یا چینی جنگجوؤں کے بارے میں کوئی اعداوشمار نہیں دیے گئے ہیں۔ پاکستانی اخبارات میں ان ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی خبریں اکثر شائع ہوتی رہتی ہیں۔

ایک عام تاثر یہ بھی ہے کہ اخبارات میں غیرملکیوں کی گرفتاری سے متعلق اکثر خبریں ذرائع کے حوالے سے شائع کی جاتی رہی ہیں اور حکام نے ان کی باضابطہ تصدیق یا تردید کم ہی کی ہے۔

تاہم پاکستان میں گزشتہ چار برسوں کے دوران القاعدہ یا طالبان کے نام پر جو ان گنت کارروائیاں ہوئی ہیں ان میں گرفتاریاں کی درست تعداد شاید خود کسی ایک سرکاری ادارے کے پاس بھی نہ ہوں۔ اس سروے میں شاید اسی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

یہ گرفتاریاں پاکستان کے تمام بڑے شہروں اور قبائلی علاقوں کے علاوہ سوات، نواب شاہ، کوہاٹ اور خضدار جیسے شہروں سے بھی ہوئی ہیں۔

پپس امن اور سیکورٹی سے متعلق عالمی اور علاقائی امور کے جائزے کے لیئے قائم کیا گیا ایک آزاد ادارہ ہے۔

افغان سرحد پر پاکستانی فوجیپاکستان کا طالبان جوا
پاکستان کی افغان سرحد پر نازک پالیسی
عاطف’بیٹا کہاں ہے؟‘
لاہور کی سروری خاتون بیٹے کے لیے پریشان ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد