’القاعدہ‘ ارکان کی گرفتاری کا دعویٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پولیس نے پاک افغان سرحد کے قریب تین مبینہ القاعدہ ارکان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ القاعدہ ارکان ایک کار میں سوار تھے اور جب انہیں ایک ناکہ پر رکنے کا اشارہ کیا گیا تو انہوں نے اسے نظر انداز کیا۔ پولیس کے مطابق ان کار کا پیچھا کیا گیا اور فائرنگ کر کے کار کو رکنے پر مجبور کر دیا جس کے بعد مبینہ القاعدہ ارکان کی گرفتاری عمل میں آئی۔ گرفتاری کے وقت دو مبینہ القاعدہ ارکان نے برقعے پہن کر عورتوں کا روپ دھار رکھا تھا۔ کار میں سے ایک AK-47 رائفل اور دستی بم بھی برآمد ہوئے ہیں۔ حکام نے ابھی تک گرفتار ہونے والے افراد کی قومیتوں کے بارے میں کوئی بیان جاری نہیں اور نہ ہی یہ بتایا کہ گرفتار شدہ افراد القاعدہ میں کتنے اہم تھے۔ تاہم امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے دو انٹیلی جنس اہلکاروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں سے ایک عرب ہیں جبکہ دو کا تعلق افغانستان سے ہے۔ | اسی بارے میں کوئٹہ: دو مشتبہ القاعدہ ارکان گرفتار03 November, 2004 | پاکستان لاہور سے چھ مبینہ دہشت گرد گرفتار20 December, 2004 | پاکستان امریکہ: مطلوب افراد کی فہرست 14 January, 2005 | پاکستان القاعدہ نیٹ ورک توڑنےکا دعویٰ13 September, 2005 | پاکستان باجوڑ : خالی قبروں کا معمہ19 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||