لاہور سے چھ مبینہ دہشت گرد گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور پولیس نے چھ مبینہ دہشت گردوں کو پکڑنے کا دعوی کیا ہے جو پولیس کے بقول القاعدہ تنظیم کے لیے کام کر رہے تھے اور ان کا سربراہ القاعدہ کے بڑے رہنما ابوالفرج سے وابستہ تھا۔ لاہور میں سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (تفتیشی) شفقات احمد نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ چار افراد کو مینار پاکستان لاہور سے گرفتار کیا گیا جہاں یہ لوگ لاہور میں دھماکہ خیز مواد کے حصول کے لیے ڈکیتی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جسے لاہور میں دہشت گردی کرنے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان افراد کی نشان دہی پر دو اور مشتبہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے تاہم تفتیش کی غرض سے ابھی ان کا نام نہیں بتایا جارہا۔ پولیس افسر نے کہا کہ گرفتار کیے جانے والوں میں ان افراد کا سرغنہ ٹیکسلا سے تعلق رکھنے والا ملک تسحین عرف عبدالجبار شامل ہے جو پہلے لشکر جھنگوی کا رکن تھا اور ٹیکسلا میں ایک مقامی شیعہ رہنما ملک حفیظ اور اس کی بیٹی کے قتل میں ملزم کے طور پر اشتہاری تھا۔ گرفتار کیے جانے والے دوسرے افراد میں لاہور سے تعلق رکھنے والے عامر مقصود عرف ابو ہارون ، محمود احمد اور سجاد حیدر شامل ہیں۔ ان کا تعلق حرکت جہاد اسلامی سے تھا اور آجکل القاعدہ کے لیے کام کررہے تھے۔ پولیس افسر نے کہا کہ ان افراد نے افغانستان سے اسلحہ کے استعمال کی تربیت حاصل کی اور ملک تحسین وہاں پر القاعدہ کے بڑے رہنما ابوالفرج سے منسلک ہوا۔ ابوالفرج پر پچیس کروڑ روپےانعام مقرر ہے اور وہ صدر جنرل پرویز مشرف پر دو ناکام قاتلانہ حملوں کا ماسٹر مائنڈ (منصوبہ ساز) کہا جاتا ہے۔ ملک تحسین پر اقوام متحدہ کی گاڑی پر دستی بموں سے حملہ کرنے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ملک تحسین نے ابوالفرج کوایبٹ آباد میں کرائے پر مکان لے کر دیا اور اس کو ٹرانسپورٹ اور دوسری سہولتیں مہیا کرتا رہا۔ پولیس کے مطابق ان چار افراد نے گزشتہ سال لاہور ائیرپورٹ پر میزائل سے حملہ کی کوشش کی جو ناکام ہوگئی تھی۔ پولیس کے مطابق یہ افراد متعدد ڈکیتیوں کی وارداتوں میں ملوث ہیں اور ان کے قبضہ سے دو دستی بم اور چار پستول برآمد ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||