BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ایجنسیوں کی قید میں‘

عاطف
عاطف کو گھر واپسی پر وحدت روڈ پر حراست میں لے لیا گیا تھا
چورنگی امر سدھو لاہور کی بوڑھی اور بیمار سروری بیگم کا کہنا ہے کہ ان کا ستائیس سالہ بیٹا عاطف بیس ماہ سے کسی مقدمہ کے بغیر حکومتی ایجنسیوں کے قبضہ میں ہے اور اس کا اپنے اہل خانہ سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

جمعرات کو لاہور پریس کلب میں اپنی کہانی سناتے ہوئے دمہ کی مریضہ سروری بیگم بار بار رو پڑتی تھیں۔ ان کے مرحوم خاوند محمد ادریس ائیر فورس کے ریٹائرڈ چیف وارنٹ افسر تھے۔

عاطف کے چھوٹے بھائی آصف ادریس کا کہنا ہے کہ تیرہ اگست سنہ دو ہزار چار کو ان کے بھائی علامہ اقبال یونیورسٹی گلبرگ لاہور میں پڑھنے کے لیے گئے تھے لیکن واپس نہیں آئے۔ بعد میں پتہ چلا کہ انہیں گھر واپسی کے دروان میں وحدت روڈ پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے بعد کچھ لڑکے ان کے گھر آئے اور انہوں نے بتایا کہ انہیں بھی ایجنسیوں نے حراست میں لے لیا تھا لیکن رہا کردیا۔ سروری بیگم کے مطابق ان لڑکوں نے بتایا کہ عاطف ادریس ان کے ساتھ قید تھے اور ان پر القاعدہ سے تعلق کا الزام لگایا گیا ہے۔

ان لڑکوں نے عاطف کے گھر والوں کو بتایا کہ انہیں خود معلوم نہیں کہ انہیں کس جگہ قید رکھا گیا تھا کیونکہ ان کے آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی جاتی تھیں اور چند دنوں بعد ان کی جگہ بدل دی جاتی تھی۔

ان لڑکوں کے مطابق ایک دن انہیں کسی ویران جگہ پر چھوڑ کر ان کی آنکھوں سے پٹیاں اتار دی گئیں اور کرائے کے لیے کچھ پیسے دیے گئے اور کہا کہ وہ اپنے گھر جاسکتے ہیں۔

عاطف کے بھائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے شروع کے دنوں میں پولیس اور حکومت کے مختلف اداروں کو اپنے بھائی کے بارے میں لکھا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

عاطف کا بھائی
 عاطف کے بھائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے شروع کے دنوں میں پولیس اور حکومت کے مختلف اداروں کو اپنے بھائی کے بارے میں لکھا لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔

انہوں نے عدالت کا رخ بھی اختیار نہیں کیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ان کا بھائی بے گناہ ہے اور اگر انہوں نے عدالت کا رخ اختیار کیا تو حکام ناراض ہوکر کہیں اس پر کوئی من گھڑت مقدمہ نہ بنا دیں۔

سروری بیگم کا کہنا ہے کہ آج سے چھ مہینے پہلے کسی سرکاری ایجنسی کے اہلکار میجر عثمان ان کے گھر آئے اور انہوں نے عاطف کا موٹر سائیکل، ان کے کچھ کاغذات اور ان کے والد (محمد ادریس) کی پنشن کتاب گھر والوں کو دی اور کہا کہ ان کا بیٹا ان کے پاس ہے اور جلد ہی رہا ہوجائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

عاطف کی والدہ سروری بیگم نے آخر کار فروری سنہ دو ہزار چھ میں لاہور ہائی کورٹ میں رٹ درخواست کی لیکن ان کا کہنا ہے کہ حکومتی وکیل ہر پیشی پر کوئی بہانہ بنادیتے ہیں اور ان کے بیٹے کو عدالت میں بھی پیش نہیں کیا گیا۔

سروری بیگم کا کہنا ہے کہ اگر ان کے بیٹے کا کوئی قصور ہے تو اس پر مقدمہ بنایا جائے اور انہیں بتایاجائے کہ وہ کس جیل میں ہے اور اس کا جرم کیا ہے۔

زندہ یا مردہ
 بیس ماہ سے غائب عاطف کے بھائی آصف ادریس کہتے ہیں کہ کم سے کم انہیں عاطف سے ملنے تو دیا جائے اور انہیں پتہ تو چلے کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں

آصف ادریس کہتے ہیں کہ ان کے بھائی کا کسی فرقہ وارانہ یا عسکری تنظیم سے کوئی تعلق نہیں تھا البتہ وہ گلشن راوی کے علاقہ میں اقرا روضۃ الاطفال نامی ایک مدرسہ میں پانچ سال سے ناظم تھے اور گرفتار ہونے سے پہلے انہوں نے داڑھی رکھ لی تھی۔ وہ کہتے ہیں۔ ’شاید یہ داڑھی رکھنا ہی ان کا قصور ہو‘۔

آصف ادریس خود بھی جامعہ محمدیہ نامی ایک مدرسہ میں پڑھتے تھے لیکن بھائی کی گرفتاری کے بعد سے انہوں نے مدرسہ جانا چھوڑ دیا ہے۔

بیس ماہ سے غائب عاطف کے بھائی آصف ادریس کہتے ہیں کہ کم سے کم انہیں عاطف سے ملنے تو دیا جائے اور انہیں پتہ تو چلے کہ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں۔ اس وقت تو عاطف کا کسی قسم کا کوئی رابطہ ہی نہیں ہے۔

اسی بارے میں
’القاعدہ ڈاکو‘ پکڑ لیے گئے
25 February, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد