’القاعدہ ڈاکو‘ پکڑ لیے گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں پولیس حکام نے القاعدہ سے تعلق ظاہر کرکے بنک لوٹنے والے گروہ کے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان ڈاکوں نے دس لاکھ ڈالر اور پچاس لاکھ روپے لوٹنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم حکام نے ان ڈاکوؤں کے القاعدہ سے تعلق کو مسترد کر دیا ہے۔ بنک لوٹنے کا یہ واقعہ پشاور کے کاروباری علاقے کارخانو مارکیٹ میں ہفتے کی صبح پیش آیا۔ عینی شاہدین اور الفیصل بنک کے عملے کے مطابق ڈاکوؤں نے جن کی تعداد سات بتائی جاتی ہے بنک کُھلنے سے قبل ہی اندر داخل ہوکر عملے سے ان کے موبائل فون چھین کر انہیں ایک کمرے میں بند کر دیا۔ دو ڈاکو جو محافظوں کے یونیفارم میں تھے کاروبار کے سلسلے میں آنے والے لوگوں کو دروازے سے ہی ایک گھنٹہ بعد آنے کا کہہ کر لوٹاتے رہے۔ پولیس کے مطابق ڈاکووں نے عملے کو دھمکی دی کہ اگر انہیں سیف کھولنے کا کوڈ نہ دیا گیا تو وہ اپنے آپ کو اور بنک کو بم سے اڑا دیں گے۔ بنک عملے کے مطابق ڈاکوؤں نے اپنا تعلق القاعدہ سے بھی ظاہر کیا اور دیواروں اور کاؤنٹر پر القاعدہ کے حق میں نعرے بھی لکھے۔ تاہم ایس ایس پی پشاور سعید وزیر نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ ان ڈاکوؤں کا تعلق القاعدہ سے ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تفتیش کا رخ کسی دوسری جانب موڑنے کی ایک ناکام کوشش تھی۔ بعد میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تین ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا جبکہ ساڑھے تین کروڑ روپے کی لوٹی ہوئی رقم بھی برآمد کر لی۔ تاہم پولیس کے مطابق ڈاکوؤں کے باقی پانچ ساتھیوں کی تلاش جاری ہے۔ پولیس کے مطابق ڈاکوں پاکستانی تھے اور ان کا تعلق پاڑا چنار کے علاقے سے ہے۔ پولیس نے اس چوری کی تفتیش کے لیے چار ٹیمیں بھی تشکیل دی ہیں جبکہ علاقے کا ایس ایچ او بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں کراچی: محافظوں نے بنک لوٹ لیا29 December, 2005 | پاکستان سندھی گلوکار پر ڈکیتی کا الزام 15 April, 2005 | پاکستان کراچی: جرائم میں اضافہ18 January, 2005 | پاکستان مبینہ ڈاکو یا جیشِ محمد کے رکن17 July, 2004 | پاکستان لاہور میں ڈاکوؤں کا راج27 March, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||