BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 December, 2005, 11:48 GMT 16:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: محافظوں نے بنک لوٹ لیا

کلفٹن
چند ماہ قبل کلفٹن کے علاقے میں بارہ کروڑ کی ڈکیتی ہوئی تھی
کراچی میں پاک فوج کے ذیلی ادارے کے تحت چلنے والے ایک بنک کے سکیورٹی گارڈ ڈیڑھ کروڑ روپے کے قریب رقم لوٹ کر فرار ہو گئے ہیں۔

یہ گزشتہ چند ماہ کے دوران کراچی میں اپنی نوعیت کی تیسری بڑی واردات ہے جس میں کسی نجی سکیورٹی ایجنسی کے محافظ ملوث ہیں۔

پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے بہادر آباد میں واقع عسکری کمرشل بینک میں جمعرات کی صبح سات بجے جیسے ہی عسکری گارڈز ایجنسی کے محافظوں کی ڈیوٹی تبدیل ہوئی تو انہوں نے بینک پر قبضہ کرلیا۔

بہادر آباد پولیس کے افسر طارق ملک کے مطابق پانچ محافظوں نے بینک آنے والے ہر ملازم کو ایک کمرے میں بند کردیا اور جب کیشیئر بنک پہنچا تو اس سے زبردستی لاکر کھلوا کر ایک کروڑ اڑتیس لاکھ روپے لےکر فرار ہوگئے۔

پولیس کے مطابق یہ پانچوں محافظ گیارہ دن قبل بھرتی کئے گئے تھے اور انہیں پانچ روز قبل ہی عسکری بینک بہادر آباد برانچ میں مقرر کیا گیا تھا۔ پولیس افسر طارق ملک کے مطابق ملزمان نے بھرتی ہونے کے لیے جو شناختی کارڈ دیے تھے وہ بھی جعلی ہیں اور ان میں تمام پتے اور تفصیلات غلط دی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ کراچی میں گزشتہ کچھ عرصے میں یہ تیسری بڑی واردات ہے جس میں نجی سیکیورٹی کے ملازم ملوث ہیں۔ اس سے قبل ایک واردات میں کلفٹن کے علاقے میں یونین بینک کے لاکرز کو توڑ کر غیرملکی کرنسی، بانڈ، زیورات اور نقد رقم لوٹی گئی تھی۔ اس واردات میں بھی سکیورٹی ایجنسی کے ملازم ملوث تھے۔ ڈی ایس پی زاہد شاہ کے مطابق اس ڈکیتی میں لونے جانے والے مال کی قیمت بارہ کروڑ تھی جس میں سے صرف دو سے ڈھائی کروڑ واپس کیے گئے تھے۔

دوسری واردات سندھ سیکریٹریٹ کے نزدیک واقع ہوئی تھی جس میں ایک منی چینجر کو یرغمال بناکر ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم چھین لی گئی تھی۔

آل پاکستان سکیورٹی ایجنسی ایسوسی ایشن کے مطابق کراچی میں ڈیڑھ سو سے زائد نجی سکیورٹی ایجنسیاں کام کر رہی ہیں جن کے پاس پچیس ہزار کے قریب گارڈ موجود ہیں۔

تنظیم کے چیئرمین طارق علی ہاشمی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس وقت پورے پاکستان میں ایک لاکھ دس ہزار سکیورٹی گارڈ کام کر رہے ہیں اور اگر ان میں سے پانچ بھی کسی وارادت میں ملوث ہیں تو اس کا الزام تمام ایجنسیز کو نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ’ ڈاکے کی وارداتوں میں کیا پولیس ملوث نہیں ہوتی۔ کسی کے منہ پر تو نہیں لکھا ہوتا کے وہ اندر سے کیسا بندہ ہے؟ اس لیے ان واقعات کو روکنا ممکن نہیں ہے‘۔

طارق علی ہاشمی نے بتایا کہ ’ہم نے اپنے دفتر کو نادرا کے ڈیٹابیس سے منسلک کیا ہوا ہے۔ جو کوئی بھی سکیورٹی ایجنسی میں بھرتی کے لئے آتا ہے۔ اس سے قومی رجسٹریشن کے ادارے نادرا کا شناختی کارڈ طلب کیا جاتا ہے۔ جس کی تصدیق نادرا ریکارڈ سے کی جاتی ہے اس لیے اگر پکڑنا ہے تو نادرا کو پکڑا جائے‘۔

واضح رہے کہ پاکستان میں نجی سکیورٹی ایجنسی کا کاروبار ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔ ان کمپنیوں میں فی گارڈ تین سے ساڑھے تین ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے جبکہ کمپنی بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی کا ماہانہ سات سے آٹھ ہزار روپے معاوضہ لیتی ہے۔

اسی بارے میں
کراچی: جرائم میں اضافہ
18 January, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد