کرنل غفار پشاور جیل سے رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
القاعدہ سے تعلقات کے شبہ میں پشاور جیل میں قید پاکستانی فوج کے ایک سابق افسر کو رہا کر دیا گیا ہے۔ کرنل غفار ان چھ فوجی افسروں میں شامل تھے جنہیں سال دو ہزار تین میں القاعدہ کے سرکردہ رہنما خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے فوراً بعد حراست میں لیاگیا تھا۔ کرنل غفار کے علاوہ جن فوجی افسروں کو حراست میں لیا گیا تھا ان کے نام کرنل خالد عباسی، میجر روحیل فراز، میجر عطاءاللہ، میجر عادل قدوس اور کیپٹن عثمان بتائے گئے تھے۔ ان تمام فوجی اہلکاروں کو کورٹ مارشل کے ذریعے ملازمت سے برطرف کرنے کے بعد مختلف سزائیں سنائی گئی تھیں۔ کرنل غفار بدھ کے روز پشاور جیل سے رہا ہوئے تو ان کے اہل خانہ اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔ کرنل غفار پشاور سے اپنے گھر واقع راولپنڈی میں پہنچ گئے ہیں۔ ان فوجی افسروں کی رہائی کے لیے مظاہرے منظم کرنے والی ’ تنظیم برائے انسانی
ان کے مطابق کرنل غفار پر الزام تھا کہ انہوں نے فون پر اپنے بیٹے سے بات کرتے حکومت کی ’امریکہ نواز پالیسی‘ کی مخالفت کرتے ہوئے صدر مشرف کو برا بھلا کہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کرنل غفار کی رہائی کے بعد القاعدہ سے تعلق کے شبہ میں گرفتار ہونے والے چھ میں سے صرف ایک فوجی افسر میجر عادل قدوس اب جیل میں ہیں۔ خالد خواجہ کا کہنا تھا کہ میجر عادل کو حال ہی میں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے صوبہ سرحد کے ضلع ہری پور کی جیل میں منتقل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میجر عادل پر الزام ہے کہ خالد شیخ محمد سے ان کے گھر رہتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام الزام بے بنیاد ہیں اور صرف فوج میں مذہبی رجحان رکھنے والے افسران کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ میجر عادل قدوس کے بارے کہا جاتا ہے کہ ان کی والدہ جماعت اسلامی کے شعبہ خواتین کی ایک سرکردہ رہنما ہیں۔ | اسی بارے میں القاعدہ: ایک ہزار ہلاک 25 May, 2006 | پاکستان فوج ہی مدد کر رہی ہے: جنرل مشرف 12 February, 2005 | پاکستان القاعدہ کا سرکردہ رکن گرفتار29 July, 2004 | پاکستان گجرات:القاعدہ کے خلاف اپریشن جاری25 July, 2004 | پاکستان ’قاتلانہ حملوں میں القاعدہ کا ہاتھ‘15 March, 2004 | پاکستان القاعدہ ختم کروں گا: مشرف20 May, 2004 | پاکستان ’سینئر القاعدہ رکن ہلاک ہوگئے ہوں گے‘15 October, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||