| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’سینئر القاعدہ رکن ہلاک ہوگئے ہوں گے‘
پاکستان نے کہا ہے کہ القاعدہ تنظیم کے ایک اہم اہلکار ان آٹھ افراد میں ہو سکتے ہیں جو اس ماہ کے شروع میں افغانستان کی سرحد کے قریب پاکستانی فوج کی کارروائی کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔ پاکستان کے وزیرِ اطلاعات شیخ رشید احمد نے ایک اخباری کانفرنس کے دوران کہا: ’میں تصدیق تو نہیں کر سکتا لیکن امکان ہے کہ پاکستان کی فوج کی کارروائی کے دوران مرنے والوں میں وہ شخص بھی شامل تھا جس کے سر کی قیمت مقرر تھی۔‘ وزیرِ اطلاعات نے اس حوالے سے مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا لیکن یہ ضرور کہا کہ ہو سکتا ہے کہ وہ شخص القاعدہ تنظیم کے پہلے دس یا پندرہ افراد میں شامل ہو۔ پاکستانی فوج نے ایک کارروائی کے دوران آٹھ مشتبہ القاعدہ جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا تھا۔ افغان سرحد کے قریب انگور اڈا پر القاعدہ کے مشتبہ اڈے پر دو اکتوبر کو ہونے والی اس کارروائی میں اٹھارہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ اس کارروائی میں دو پاکستانی فوجی بھی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ دو زخمی ہوئے تھے۔ پاکستانی اہلکار فوجی کارروائی میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی قومیت اور شناخت کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پچھلے ہفتے حکام نے ان قبائل کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز کر دیا تھا جن پر شبہ ہے کہ انہوں نے القاعدہ یا طالبان کے مشتبہ شدت پسندوں کو پناہ دی۔ پاکستان نے جو دہشت گردی کے امریکی سالاری میں لڑی جانے والی جنگ میں اتحادی ہے اب تک طالبان یا القاعدہ کے پانچ سو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے۔ تاہم افغانستان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ان شدت پسندوں کو سرحد پار جانے سے روکنے کے لئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کئے ہیں جواس کی سر زمین پر کارروائیاں کرتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||