گجرات:القاعدہ کے خلاف اپریشن جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کے شہر گجرات میں ہفتہ کی شام سے پولیس نے ایک مکان کو گھیرے میں لیا ہوا ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس میں غیرملکی مشتبہ دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔ گوجرانوالہ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس الطاف قمر اور گجرات کے ضلعی پولیس آفیسر راجہ نور حسین خود اس کاروائی کی نگرانی کررہے ہیں۔ علاقہ میں بجلی بند کردی گئی ہے اور شہر میں ایمرجنسی کی فضا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد کو خود کو پولیس کے حوالہ کرنے کے لیے کہا جارہا ہے لیکن وہ مزاحمت کررہے ہیں اور ان کے پاس بھاری مقدار میں اسلحہ موجود ہے۔ کاروائی کی ابتدادخفیہ اداروں نے گجرات کے فیصل ہوٹل پر چھاپہ مار کر کی جہاں سے منڈی بہاؤالدین کے ایک سابق رکن صوبائی اسمبلی کے ایک عزیز اعجاز وڑائچ کو ایک اور شخص کے ساتھ پکڑا گیا۔ نامعلوم شخص مشتبہ القاعدہ افراد کا ڈرائیور بتایا جاتا ہے جبکہ یہ مشتبہ افراد اعجاز وڑائچ کے بنگلہ میں کرایہ دار کے طور پر رہ رہے ہیں۔ اس کی اطلاع پر بنگلہ پر چھاپہ مارا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے اس نے گھر پر چھاپہ مارا تو گھر سے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی گئی۔ محصورین کی طرف سے خود کش حملے کی پیش بندی کے طور پر گجرات شہر کے ہسپتالوں سے حاصے بستر خالی کر لیے ہیں۔ گجرات کے محلہ اسلام نگر میں دو ازبک، دو یمنی باشندوں سمیت گیارہ مشتبہ القاعدہ ارکان کی موجودگی کی اطلاع پر خفیہ اداروں اور لاہور اور گجرات پولیس نے مل کر چھاپہ مارا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||