BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 July, 2004, 03:27 GMT 08:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گجرات:القاعدہ کے خلاف اپریشن جاری

News image
وزیراعظم چودھری شجاعت حسین کے شہر گجرات میں ہفتہ کی شام سے پولیس نے ایک مکان کو گھیرے میں لیا ہوا ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس میں غیرملکی مشتبہ دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔

گوجرانوالہ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس الطاف قمر اور گجرات کے ضلعی پولیس آفیسر راجہ نور حسین خود اس کاروائی کی نگرانی کررہے ہیں۔

علاقہ میں بجلی بند کردی گئی ہے اور شہر میں ایمرجنسی کی فضا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ افراد کو خود کو پولیس کے حوالہ کرنے کے لیے کہا جارہا ہے لیکن وہ مزاحمت کررہے ہیں اور ان کے پاس بھاری مقدار میں اسلحہ موجود ہے۔

کاروائی کی ابتدادخفیہ اداروں نے گجرات کے فیصل ہوٹل پر چھاپہ مار کر کی جہاں سے منڈی بہاؤالدین کے ایک سابق رکن صوبائی اسمبلی کے ایک عزیز اعجاز وڑائچ کو ایک اور شخص کے ساتھ پکڑا گیا۔

نامعلوم شخص مشتبہ القاعدہ افراد کا ڈرائیور بتایا جاتا ہے جبکہ یہ مشتبہ افراد اعجاز وڑائچ کے بنگلہ میں کرایہ دار کے طور پر رہ رہے ہیں۔ اس کی اطلاع پر بنگلہ پر چھاپہ مارا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گھیرے میں لیے گئےمکان میں دو یمنی ، اور دو ازبک باشندوں سمیت گیارہ مرد، نو عورتیں اور اٹھ بچے شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے اس نے گھر پر چھاپہ مارا تو گھر سے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی گئی۔

محصورین کی طرف سے خود کش حملے کی پیش بندی کے طور پر گجرات شہر کے ہسپتالوں سے حاصے بستر خالی کر لیے ہیں۔

گجرات کے محلہ اسلام نگر میں دو ازبک، دو یمنی باشندوں سمیت گیارہ مشتبہ القاعدہ ارکان کی موجودگی کی اطلاع پر خفیہ اداروں اور لاہور اور گجرات پولیس نے مل کر چھاپہ مارا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد