BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 March, 2006, 20:01 GMT 01:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اسامہ پاکستان میں کردار چاہتے تھے‘

اسامہ بن لادن
اسامہ بن لادن نے پیپلز پارٹی کی حکومت کو گرانے کے رقم کی پیشکش کی: قاضی حسین احمد
پاکستان میں چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے دعویٰ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن نے میاں نواز شریف کو وزیراعظم بنانےاور بینظیر بھٹو کی حکومت گرانے کے لیے مالی مدد کی پیشکش کی تھی۔

پاکستان کے اردو اخبار جنگ کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ اسامہ بن لادن نے جماعت اسلامی کے ساتھ تعاون کی بھی بات کی لیکن انہوں نے اسے مسترد کردیا۔

اسامہ بن لادن کے بارے میں قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی سیاست میں اپنا کردار چاہتے تھے اور جماعت اسلامی کے ساتھ تعاون کی بات بھی کی تھی لیکن انہوں نے ( قاضی حسین احمد) انکار کیا تھا۔

ماضی میں سابق وزیراعم بینظیر بھٹو ایسا دعویٰ کرتی رہی ہیں کہ اسامہ بن لادن نے ان کی حکومت کو گرانے کی کوشش کی تھی لیکن ان کی بات پر کچھ لوگ کہتے تھے کہ شاید وہ امریکی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایسا کہہ رہی ہیں۔ قاضی حسین احمد نے پہلے کبھی اسامہ بن لادن کے پاکستانی سیاست میں اثرانداز ہونے کی بات نہیں کی لیکن اب انہوں نے بینظیر بھٹو کے الزامات کی تائید کردی ہے۔

قاضی حسین احمد کے مطابق بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے دور میں ان کے خلاف پیش کردہ ناکام عدم استحکام کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے اسامہ بن لادن نے ووٹ خریدنے کے لیے رقم کی پیشکش کی اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔

بینظیر بھٹو کی حکومت گرانے کے لیے وفاداری تبدیل کرانے کی خاطر جو ’ہارس ٹریڈنگ‘ ہوئی تھی اس سے ملک میں سیاسی خرید و فروخت کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا تھا۔

واضح رہے کہ اس وقت چھ جماعتی اتحاد ’اسلامی جمہوری اتحاد‘ یعنی ’آئی جے آئی‘ میں قاضی حسین بھی نواز شریف کے ساتھ تھے اور اس اتحاد کے مخالفین نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی ’آئی ایس آئی‘ پر الزام لگایا تھا کہ اس نے یہ اتحاد بنوایا ہے۔آئی ایس آئی کے سابق سربراہ گل حمید کئی دفعہ آئی جے آئی کو بنانے کا دعویٰ کر چکے ہیں۔

قاضی حسین احمد سے منسوب اس انٹرویو کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ صدر مشرف کے آئینی اصلاحات کو منظور کرانے کے لیے وہ خفیہ ایجنسی ’آئی ایس آئی‘ کے سربراہ سے ان کے ایک محفوظ مکان میں ملنے گئے تھے جہاں ان کے مطابق بات چیت کے دوران ایک موقع پر ایجنسی کے سربراہ نے وزیراعظم ( میر ظفراللہ جمالی) کو علیحدہ بٹھادیا اور خود لین دین کرنے لگے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد