’سیاسی سرگرمیاں محدود رکھیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان حکومت نے عام انتخابات سے محض ایک ماہ قبل سیاستدانوں کو مشورہ دیا ہے کہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر اپنی سیاسی سرگرمیاں محدود کریں اور بڑے جلسے جلوسوں سے اجتناب کریں۔ وزارت داخلہ کے ترجمان بریگیڈئر (ر) جاوید اقبال چیمہ نے منگل کو ہفتہ وار بریفنگ میں سیاستدانوں کے لیے باضابطہ طور پر ’سیکورٹی ایڈوائس، جاری کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی تجاویز پر عمل کریں۔ چودہ نکاتی سیکورٹی ایڈوائس میں حکومت نے ملک بھر کے سیاستدانوں کو کہا ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد انہیں پر خطر دھمکیوں کا سامنا ہے۔ ایڈوائس میں تمام سیاستدانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ مقرر کردہ فوکل پوائنٹ کے ذریعے صوبائی ہوم ڈپارٹمینٹ اور مقامی پولیس سے رابطہ رکھیں اور مقامی پولیس چیف کی سیکورٹی ہدایات پر معقول توجہ دیں۔ تجویز کردہ حکومتی اقدامات کے مطابق سیاستدان اپنے سفری پروگرام کے بارے میں پولیس اور صوبائی انتظامیہ کو مطلع کریں اور کسی مخصوص موقع پر حفاظتی اقدامات کی طلبی میں ہچکچاہٹ محسوسں نہ کریں۔ حکومت نے سیاستدانوں سے کہا ہے کہ وہ عوام میں غیر ضروری نمود ونمائش سے گریز کریں اور سفری پروگراموں کے لیے مختلف راستے استعمال کریں۔ حکومتی ہدایات کے مطابق سیاستدان اپنے ذاتی محافظوں کی سنبت حکومتی محافظوں کو ترجیح دیں اور ذاتی محافطوں کی مقامی پولیس سے سیکورٹی کلیئرنس حاصل کریں۔ جاوید اقبال چیمہ نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران بڑے جلسہ جلوسوں سے گریز کریں اور کارنر میٹنگز کو ترجیح دیں اور اپنے جلسوں اور رہائش گاہوں کے قریب مشکوک افراد کو آنے نہ دیں۔ وزارت داخلہ کے ترجمان نے ایک سوال کے جواب پر کہا کہ سیکورٹی ایڈوائس کا مقصد سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگانا نہیں بلکہ سیاستدانوں کو خطرات سے پیشگی آگاہ کرنا اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اگرچہ تمام بڑے سیاسی رہنماؤں کو سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے تاہم ان کے مطابق سیاسی رہنماؤں کو غیر ضروری اجتماعات میں شرکت نہیں کرنی چائیے۔ محرم الحرام کے حوالےسے ترجمان نے کہا کہ موجودہ امن وامان کی صورتحال کے پیش نظر ملک بھر میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور امام بارگاہوں اور مذہبی رہنماؤں کے لئے خصوصی حفاظتی اقدامات کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حساس اضلاع میں ضرورت پڑنے پر اضافی سکیورٹی دستوں کو تعینات کیا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں جاوید چیمہ نے کہا کہ بے نظیر کے قتل کی تحقیقات درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور اس سلسلے میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم پر کوئی دباؤ نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سکاٹ لینڈ کی ٹیم کے چھ اراکین واپس گئے ہیں جبکہ ان کے چار اراکین جانچ مکمل ہونے تک پاکستان میں رہیں گے۔ | اسی بارے میں جمہوری وطن پارٹی کے رہنما اغواء09 January, 2008 | پاکستان کراچی: چھ سال میں اٹھائیس دھماکے15 January, 2008 | پاکستان ’پرویز الہیٰ، آج بھی ڈیفیکٹو وزیرِ اعلیٰ‘14 January, 2008 | پاکستان ’دہشتگردی میں انیس فیصد اضافہ‘14 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||