BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: چھ سال میں اٹھائیس دھماکے

کراچی میں بینظیر بھٹو کے جلوس پر دھماکے میں کم سے کم ایک سو چالیس افراد ہلاک ہوئے تھے
پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی شہر اور صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں سال دو ہزار دو سے لیکر جنوری دو ہزار آٹھ تک اٹھائیس سے زائد بم دھماکے ہوئے جن میں کل تین سوسات افراد جاں بحق ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں مذہبی رہنما، سیاستداں، سفارتکار، پولیس اور فوجی اہلکار شامل ہیں۔

سنہ دو ہزار دو میں پانچ بم دھماکے ہوئے۔ آٹھ مارچ کو ’شیرٹن‘ ہوٹل کے پاس ایک بس میں بم دھماکہ ہوا جس میں گیارہ فرانسیسی اور تین پاکستانی ہلاک ہوگئے۔

اسی سال چودہ جون کو سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود امریکی قونصلیٹ کے قریب کار بم دھماکہ ہوا جس میں بارہ افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوئے۔ قونصلیٹ کی عمارت کا ایک بیرونی حصہ بھی اُڑ گیا۔

گیارہ جولائی دو ہزار تین کو شاہراہ فیصل پر واقع ایک دس منزلہ عمارت میں دھماکے سے دو افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔

سولہ اکتوبر کو یکے بعد دیگرے تین دھماکے ہوئے۔ جن میں سے ایک پولیس تھانے کے اندر ہوا۔ جس میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

پانچ دسمبر کو مقدونیہ کے اعزازی قونصل خانے میں طاقتور بم دھماکہ ہوا جس کے بعد پولیس کو عمارت سے تین لاشیں ملی، جن کے ہاتھ پاؤں باندھے ہوئے تھے۔


انیس ستمبر دو ہزار تین میں کراچی کے معروف تجارتی علاقے شاہراہ فیصل کی ایک کئی منزلہ عمارت میں ایک بم دھماکہ ہوا ہےتاہم کوئی زخمی یا ہلاک نہیں ہوا۔

سنہ دو ہزار چارمیں پانچ واقعات ہوئے ۔ پندرہ جنوری کو صدر کے علاقے میں واقع ایک چرچ کے باہر بم دھماکہ ہوا جس میں دو پولیس والوں سمیت کم سے کم گیارہ افراد زخمی ہوئے۔

دس اپریل دو ہزار چار کو کار بم حملے میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے۔ یہ حملہ شہر کے متمول علاقے ڈیفنس سوسائٹی میں واقع گولف کلب کی پارکنگ لاٹ میں ہوا۔

سات مئی دو ہزار چار کو ایک خودکش حملہ آور نے ایک پر ہجوم شیعہ مسجدحیدری پر حملہ کیا۔ جس کے نتیجے میں تیئس افراد ہلاک ہوگئے جبکہ ایک شخص اس کے بعد پھوٹ پڑنے والے ہنگاموں میں ہلاک ہو گیا۔

پچیس مئی دو ہزار چار کو کراچی پورٹ ٹرسٹ کے علاقے میں ہونے والے ایک دھماکے کے نتیجے میں پانچ افراد زخمی ہوئے۔ بعد میں ایک زخمی چل بسا۔

اس واقعے کے دوسرے روزچھبیس مئی کو امریکی کلچرل سینٹر کے باہر بیس بیس منٹ کے وقفے کے ساتھ دو کار بم دھماکے ہوئے۔ جس میں ایک پولیس اہلکارہلاک ہوگیا۔ اور بارہ سے زائد افراد زخمی ہوئے جس میں صحافی بھی شامل تھے۔ یہ دھماکہ امریکی قونصل جنرل کی رہائش گاہ کے قریب ہوا تھا۔

اسی سال تیس مئی کومذہبی عالم نظام الدین شامزئی کو اس وقت گولیوں کا نشانہ بنایا گیا جب وہ کارمیں گھر سے آرہے تھے۔

واقعے کے دوسرے روز یعنی اکتیس مئی کو ایک خودکش حملہ آور نے امام علی رضا مسجد میں خود کو اس وقت اڑا دیا جب وہاں پر شام کی نماز ادا کی جا رہی تھی۔ بائیس افراد ہلاک ہوگئے جبکہ بعد کے ہنگاموں میں دو افراد ہلاک ہوئے۔


دس جون کو کور کمانڈر جنرل احسن سلیم حیات کے کارواں پر حملہ کیا گیا۔ جس میں جنرل تو بچ گئے لیکن گیارہ افراد ہلاک ہوگئے۔

چوبیس جولائی کو سپر ہائی وے پر گلشنِ معمار کے قریب سڑک کے کنارے ٹوکری میں رکھے گئے ریموٹ کنٹرول بم کا دھماکہ ہوا جس میں ایک شخص ہلاک اور سات زخمی ہوگئے۔

سات اگست دو ہزار چار کو ڈیفنس فیز ٹو میں ہونے والے کار بم دھماکے میں دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو گئے۔

آٹھ اگست دو ہزار چار کو سائٹ کے علاقے میں اتوار کی شام ہونے والے دو بم دھماکوں میں کم سے کم نو افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

چار فروری دو ہزار پانچ کو دو دھماکے ہوئے۔ پہلا دھماکہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کے باہر ہوا جبکہ دوسرا دھماکہ حسن سکوائر کے علاقے میں ایکسپو سینٹر کے قریب ہوا جہاں اُن دنوں ایک نمائش جاری تھی۔

تیس مئی دو ہزار پانچ کوشیعہ مسجد مدرسہ مدینہ العلم پر خود کش حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔

بعد میں مشتعل ہجوم نےاس واقعے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کے ایف سی فوڈ چین کو آگ لگا دی جس میں چھ افراد جل کر ہلاک ہوگئے۔

دس جون دو ہزار پانچ کو اتحاد ٹاؤن کے علاقے میں ایک کباڑی کی دکان میں بم دھماکے سے تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے۔

پانچ نومبر کوایک اور فوڈ شاپ کے باہر کار میں بم دھماکہ ہوا جس میں تین افراد ہلاک اورآٹھ سے زیادہ زخمی ہوگئے۔

دو مارچ دو ہزار چھ کو امریکی قونصلیٹ کے سخت حفاظتی اقدامات والے علاقے میں کار بم دھماکہ ہوا جس میں ایک امریکی سفارتکار سمیت چار افراد ہلاک ہوئے۔

چھ اپریل کو کراچی کے علاقے گلشنِ اقبال میں ایک بم دھماکے میں تین افراد زخمی ہوگئے۔

گیارہ اپریل کو نشتر پارک میں ایک مذہبی اجتماع میں بم دھماکہ ہوا جس میں مذہبی علما سمیت چالیس افراد ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے تقریباً تین ماہ بعد ایک خودکش بم دھماکے میں شیعہ عالم علامہ حسن ترابی اور ان کا بھتیجا ہلاک ہو گیا۔

چھ ستمبر دو ہزار سات کو پاکستان کے یومِ دفاع کے موقع پر کراچی کے قائدِ اعظم انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ہوٹل میں بم دھماکے کے نتیجے میں سولہ افراد زخمی ہوگئے۔

اٹھارہ اکتوبر دو ہزار سات کو بینظیر بھٹو کی وطن واپسی کے استقبالی کارواں پر کارساز کے پاس دو بم دھماکے ہوئے جس میں بینظیر بھٹو تو بچ گئیں تھیں لیکن واقعے میں کم سے کم ایک سو چالیس افراد ہلاک ہوگئے۔

چودہ جنوری دو ہزار آٹھ کو قائد آباد کے علاقے گل احمد چورنگی میں ایک دھماکہ ہواجس میں کم سے کم نو افراد ہلاک اور تقریباً پچاس زخمی ہوگئے۔

خود کش حملہ (فائل فوٹو)پاکستان میں دہشت
’چار ماہ: بیس سے زیادہ حملے، سینکڑوں ہلاک‘
’جنگ‘ کس نے جیتی
’کراچی کی لڑائی سب ہی ہار گئے‘
پرتشدد احتجاج
بجلی کے بحران پر کراچی میں پرتشدد احتجاج
افتخار کے بعد بینظیر
وہی ہوا جس کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا
کراچیکراچی کے حالات
کیاانتہائی سکیورٹی باعث اطمنان ہو سکتی ہے؟
کراچی میں بم دھماکے
سکیورٹی کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد