BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 January, 2008, 12:38 GMT 17:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دہشتگردی میں انیس فیصد اضافہ‘

بلوچی جنگجو
سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث کچھ مشتبہ افراد کوحراست میں لیا گیا ہے: سعود گوہر
صوبہ بلوچستان میں سنہ دو ہزار چھ کی نسبت دو ہزار سات میں دہشت گردی کی وارداتوں میں انیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس سعود گوہر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز پر حملوں میں ملوث کچھ مشتبہ افراد کوحراست میں لیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔

کوئٹہ میں تعیناتی کے دو ماہ بعد پہلی مرتبہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل پولیس سعود گوہر نے صوبے میں دہشت گردی کی وارداتوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ سنہ دو ہزار چھ میں چار سو اڑتیس واقعات پیش آئے تھے۔ ان واقعات میں ایک سو اڑتیس افراد ہلاک اور پانچ سو بتیس زخمی ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس سنہ دوہزار سات میں پانچ سو چالیس وارداتیں ہوئیں جن میں ایک سو چھیاسی افراد ہلاک اور چار سو پینتالیس افراد زخمی ہوئے۔

سعود گوہر کے مطابق دو ہزار چھ کی نسبت دو ہزار سات میں دیگر خطرناک قسم کے جرائم کے دو سو اسی واقعات زیادہ ہوئے ہیں جبکہ غیر قانونی اسلحہ اور منشیات کی برآمدگی میں پولیس کارروائی بہتر رہی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ اور اس طرح کی دیگر واقعات میں تاحال کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن نوشکی میں کچھ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے اور توقع ہے کہ اس میں کامیابی حاصل ہو گی۔

یاد رہے کہ فروری سنہ دو ہزار سات میں ضلع کچہری میں خود کش دھماکے میں ایک جج اور آٹھ وکیلوں سمیت سولہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جبکہ دسمبر میں کوئٹہ چھاؤنی میں خود کش دھماکے میں گیارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

 سنہ دوہزار سات میں پانچ سو چالیس وارداتیں ہوئیں جن میں ایک سو چھیاسی افراد ہلاک اور چار سو پینتالیس افراد زخمی ہوئے۔
آئی جی بلوچستان سعود گوہر

اسی طرح حب میں چینی انجینیئرز کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا اور چینی انجینیئرز کے ایک قافلے پر حملے میں پولیس والے ہلاک ہوئے تھے۔

بلوچستان میں مبینہ فوجی کارروائی دسمبر دو ہزار پانچ میں کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں شروع کی گئی تھی۔ جس کے بعد یہ کارروائیاں دیگر علاقوں میں پھیلتی گئیں ۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بیشتر فراری کیمپ ختم کر دیے گئے ہیں اور اب صوبے میں امن قائم ہو گیا ہے۔

انسپکٹر جنرل پولیس نےکہا ہے کہ محرم الحرام کے حوالے سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور حساس مقامات پر پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکار تعینات رہیں گے جبکہ فوج کو چوکس رکھا جائے گا۔

بلوچستان میں بارودی سرنگیں پاکستان بارود کا ڈھیر
بلوچستان میں بارودی سرنگوں سے ہلاکتیں
بلوچستان میں ایک قبائلیصوبائی خودمختاری
صوبوں کو خودمختاری دینا اتنا آسان نہیں
مسلح بلوچکیا سچ، کیا جھوٹ؟
حکومت ،مخالفین کے دعووں کی تصدیق ناممکن
بلوچستانپانچویں لڑائی
بلوچستان سے خصوصی ویڈیو رپورٹ
اسلحہفوج کی محافظ
فوج نےلیویز کی خدمات حاصل کر لیں ہیں
نڑ کی جگہ تھرایا
بلوچ قبائل کی کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی
بلوچ ویب سائٹ
بلوچ قوم پرستوں کی تحریک انٹرنیٹ پر
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد