سندھ سے تیس خواتین امیدوار ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ جنوری کو ہونے والے عام انتخابات میں سندھ سے تیس خواتین حصہ لے رہی ہیں۔ ان میں سے اکثر کو سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے مگر کچھ خواتین آزاد امیداوار کی حیثیت سے الیکشن لڑ رہی ہیں۔ سندھ میں گزشتہ انتخابات میں صرف دو خواتین عام انتخابات میں کامیاب ہوئی تھیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی عذرا پیچھوہو نوابشاہ کی قومی، اور سسی پلیجو ٹھٹہ کی صوبائی نشست پر کامیاب ہوئی تھیں۔ آنے والے انتخابات میں قومی اسمبلی کے گیارہ حلقوں میں خواتین امیدوار ہیں۔ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دو سو سات شہدادکوٹ قمبر سے پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو امیدوار ہیں۔ لاڑکانہ کے حلقے این اے دو سو چار سے پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو کی چیئرپرسن اور مرتضیٰ بھٹو کی بیوہ غنویٰ بھٹو انتخاب لڑ رہی ہیں۔ اس حلقے سے بینظیر بھٹو بھی امیدوار تھیں مگر بعد میں وہ دستبردار ہوگئیں۔ غنویٰ بھٹو کی کامیابی کے لیے ان کی بیٹی فاطمہ بھٹو گھر گھر جا کر مہم چلا رہی ہیں۔ جیکب آباد کے قومی حلقے این اے دو سو آٹھ پر نگران وزیر اعظم محمد میاں سومرو کی بہن ملیحہ ملک امیدوار ہیں۔ ان کا مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار اعجاز جکھرانی سے ہے۔ نوابشاہ کے حلقے این اے دو سو تیرہ سے بینظیر بھٹو کی نند ڈاکٹر عذرا پیچوہو انتخاب لڑ رہی ہیں۔ وہ اسی حلقے سے پہلے بھی کامیاب ہو چکی ہیں۔ ان کے مدمقابل مسلم لیگ فنکشنل کے امیدوار زاہد حسین ہیں۔ این اے دو سو سینتیس مٹیاری پر پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار شمشاد بچانی اور مسلم لیگ کی حمایت یافتہ امیدوار ادیبہ مگسی میں مقابلہ ہے۔ بدین کے حلقے این اے دو سو پچیس پر بھی مسلم لیگ ق کی امیدوار یاسمین شاہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کے درمیان سخت مقابلے کا امکان ہے۔ دادو کے حلقے این اے دو سو بتیس پر پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے رشیدہ اختر پہنور اور ٹھٹہ کے حلقہ این اے دو سو اڑتیس پر متحدہ قومی موومنٹ کی ہیر سوہو امیدوار ہیں جن کا مقابلہ مسلم لیگ ق کے امیدوار ایاز شاہ شیرازی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار ارباب وزیر میمن سے ہوگا۔ کراچی کے حلقے این اے دو سو بیالیس پر مسلم لیگ نواز کی امیدوار فرح اعوان انتخاب لڑ رہی ہیں۔ حلقہ این اے دو سو پچاس پر متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے نامور کمپیئر خوش بخت شجاعت اور آزاد امیدوار کی حیثیت سے بیگم سلمیٰ احمد الیکشن لڑ رہی ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے انیس حلقوں سے اکثر خواتین آزادانہ حیثیت سے انتخابات لڑ رہیں ہیں۔ جس میں پی ایس پچاسی ٹھٹہ پر پاکستان پیپلز پارٹی کی امیدوار سسی پلیجو اور ایم کیو ایم کی ہیر سوہو میں مقابلہ ہے۔ پی ایس 109 لیاری سے متحدہ کی جانب سے نادیہ گبول امیدوار ہیں۔ سندھ کی قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے مخصوص دس نشستوں کے لیے چھتیس امیدوار ہیں اور صوبائی اسمبلی کی انتیس مخصوص نشستوں کے لیے تراسی خواتین انتخاب لڑ رہی ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں صوبائی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر پاکستان پیپلز پارٹی کی سب سے زیادہ خواتین امیدوار کامیاب ہوئی تھیں۔ پی پی پی کی بارہ، ایم کیو ایم کی چھ ، متحدہ مجلس عمل کی دو، مسلم لیگ ق کی تین ، فنکشنل لیگ کی دو اور نیشنل الائنس کی تین خواتین نے کامیابی حاصل کی تھی۔ | اسی بارے میں ’لاڑکانہ میرا گھر بینظیر کا نہیں‘13 December, 2007 | پاکستان بائیکاٹ سے صورتحال تبدیل14 December, 2007 | پاکستان لیاری میں تیر جیتے گا یا فٹبال 18 December, 2007 | پاکستان سوات: دو خواتین انتـخابی میدان میں18 December, 2007 | پاکستان پیپلز پارٹی، قسمیں اور حلف نامے12 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||