BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 January, 2008, 12:30 GMT 17:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سندھ، ووٹر زیادہ پولنگ سٹیشن کم

ٹرانسپیرنٹ بیلٹ باکس
سندھ میں ووٹروں کی تعداد میں اضافہ لیکن پولنگ سٹیشنوں کی تعداد میں کمی کر دی گئی ہے
اٹھارہ فروری کو ہونے والےعام انتخابات میں سن دو ہزار دو کے انتخابات کی نسبت صوبہ سندھ میں ووٹرز کی تعداد میں تو تینتیس لاکھ کا اضافہ ہوگیا ہے لیکن الیکشن کمیشن نےصوبے بھر میں پولنگ اسٹیشن کی تعداد 556 کم کردی ہے۔

ان انتخابات میں جو ووٹرز کی جو شرح فیصد صوبہ پنجاب میں فی پولنگ سٹیشن بنتی ہے اگر اس اعتبار سے بھی صوبہ سندھ میں پولنگز کی تعداد نکالی جائے تو وہ سولہ ہزار پانچ سو تین بنتی ہے۔جبکہ الیکشن کمیشن نےجو پولنگ سٹیشنز کی تعداد مقرر کی ہے وہ اس سے تین ہزار کم ہے۔

صوبہ سندھ میں دیگر صوبوں کی نسبت فی پولنگ سٹیشن ووٹرز کی شرح کافی زیادہ ہے۔اوسطاً سندھ میں ایک پولنگ سٹیشن چودہ سو پچپن ووٹرز کے لیے ہے۔ جبکہ پنجاب میں گیارہ سو بیاسی ووٹرز کے لیے ایک پولنگ سٹیشن، اسلام آباد میں بارہ سو تریسٹھ ووٹرز، صوبہ سرحد میں تیرہ سو چار، فاٹا میں بارہ سو چھپن اور بلوچستان میں بارہ سو باسٹھ ووٹرز کے لیے ایک پولنگ سٹیشن مقرر کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کی ووٹرز فہرست میں اکتوبر سن دو ہزار دو کے انتخابات میں ووٹرز کی کل تعداد سات کروڑ اٹھارہ لاکھ تھی، جو سن دو ہزار سات کی نئی اور کمپیوٹرائزڈ ووٹر فہرست میں کم ہوکر پانچ کروڑ بیس لاکھ ہوگئی تھی۔

الیکشن کمیشن کےسیکرٹری کنور دلشاد نے ووٹروں کی تعداد میں کمی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دو کروڑ جعلی ووٹروں کو لسٹ سے نکالا گیا تھا۔الیکشن کمشن نے سپریم کورٹ کےحکم پر ووٹر لسٹ کو نئے سرے سے تیار کیا جس کے بعد کل ووٹروں کی تعداد آٹھ کروڑ نو لاکھ کے قریب ہے۔

اٹھارہ فروری کے مجوزہ انتخابات میں آٹھ کروڑ نو لاکھ کی ووٹر لسٹ میں سن دو ہزار سات کی فہرست کی نسبت نوے لاکھ سے زائد ووٹ درج ہوئے ہیں۔

اضافی ووٹرز میں سندھ میں تینتیس لاکھ، پنجاب میں بتیس لاکھ، اسلام آباد میں ایک لاکھ، سرحد میں اٹھارہ لاکھ، فاٹا میں سوا لاکھ اور بلوچستان میں چار لاکھ سینتیس ہزار ووٹرز کی تعداد بڑھی۔

چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت میں ووٹرز کی تعداد میں اضافے کےساتھ ساتھ سن دو ہزار دو کی نسبت پولنگ سٹیشنز کی تعداد میں بھی اضافہ کیاگیا ہے۔لیکن سندھ و سرحد صوبوں میں ووٹرز کی تعداد میں دوسرے صوبوں سے زیادہ اضافہ ہوا مگر پولنگ سٹیشنز کی تعداد میں اضافے کے بجائے پانچ سو چھپن پولنگ سٹیشنز کی تعداد کم کردی گئی ہے۔

اس بارے میں جب سیکرٹری الیکشن کمیشن سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں صوبہ سندھ کے بعض علاقوں میں تین سو ووٹرز کےلیے بھی پولنگ سٹیشن بنائےگئے تھے جنہیں اب ختم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ قانون کے مطابق ایک ہزار سے پندرہ سو ووٹرز کے لیے ایک پولنگ سٹیشن بنایا جاتا ہے اور اٹھارہ فروری کے انتخابات کے لیے سندھ میں قانون پر سختی سے عمل کروایا گیا ہے۔

اسی بارے میں
کون سچا، کون جھوٹا؟
02 August, 2005 | پاکستان
سندھ احتجاج، پولیس کی شیلنگ
09 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد