سندھ احتجاج، پولیس کی شیلنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے احتجاج کیا گیا ہے، لیاری میں پرتشدد احتجاج ہوا ہے جہاں پولیس کو شیلنگ کا سہارا لینا پڑا ہے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد سے نامہ نگار علی حسن نے بتایا ہے کہ اندرون سندھ کئی شہرو میں احتجاج کی اطلاعات ہیں، بدین میں سنیچر کو ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے، آصف زردای کے آبائی شہر میں پیپلزپارٹی کی جانب سے ریلی نکالی گئی جبکہ سکھر میں ریلی نکالنے نہیں دی گئی جس پر پولیس اور کارکنوں کی جھڑپیں ہوئیں۔ جیکب آباد میں بھی ٹائر جلاکر احتجاج کیا گیا اور قمبر میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پہلی مرتبہ پورے شہر میں گروہوں کی صورت میں احتجاج کیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے یوم احتجاج کے سلسلے میں جمعہ نماز کے بعد رنچھوڑ لائین، کورنگی، لانڈھی ، ناتھا خان گوٹھ، سبزی منڈی، ملیر سمیت شہر میں کئی مقامات پر مساجد کے باہر احتجاج کیا، جن سے محمد حسین محنتی، نصراللہ شجیح اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔ دوپہر کو پاکستان پیپلز پارٹی کے گڑھ لیاری میں بینظیر بھٹو کی گرفتاری کی اطلاع پر شدید ہنگامہ آرائی ہوئی جس دوران پولیس نے شیلنگ بھی کی ہے۔ کم عمر لڑکے ہاتھوں میں بینظیر کی تصویر اور ڈنڈے لے کر سڑکوں پر نکل آئے اور پتھراؤ کرکے ٹریفک معطل کردیا اور کاروبار بند ہوگئے۔ علاقے میں مختلف مقامات پر ٹائر جلائے گئے اور بازی کی گئی، احتجاج کا زور چاکیواڑہ اور آٹھ چوک پر زیادہ دیکھنے میں آیا، پولیس کی بکتر بند گاڑیاں نوجوانوں کو دوڑاتی رہیں مگر وہ ایک گلی سے جاتے اور دوسری سے پھر نکل آتے۔ یہ آنکھ مچولی شام تک جاری رہی۔
پریس کلب کے باہر پاکستان پیپلز پارٹی کے خواتین ونگ کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، پولیس کی ایک بھاری نفری موجود تھی مگر کسی نے کوئی مزاحمت نہیں کی خواتین حکومت اور سندھ کے وزیراعلیٰ ارباب غلام رحیم کے خلاف اشتعال انگیز نعرہ لگاتی رہیں۔ ایک رہنما نور جہان بلوچ کا کہنا تھا ’جلسے جلوسوں پر پابندی صرف اپوزیشن کی جماعتوں کے لیے پنجاب کا وزیراعلیٰ جلسے کر رہا ہے اسے کوئی نہیں روک رہا‘۔ انہوں نے سوال کیا کہ دہشت گردی کا خدشہ صرف اپوزیشن کی جلسوں میں کیوں ہوتا ہے حکمرانوں کے جلسے میں کیوں نہیں ؟ قومی شاہراہ پر سٹیل ٹاؤن اور ملیر کے مقام پر مشتعل افراد نے ٹائر جلا کر ٹرئفک کو معطل کردیا، گلستان جوہر اور کورنگی میں بھی ٹائر جلاکر احتجاج کیا۔ سول سوسائٹی کی تنظیموں کی جانب سے سی ویو پر مشعل بردار جلوس نکالا گیا اور صدر مشرف اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ ایمرجنسی کے خلاف اٹھ کھڑی ہوں۔ اندرون سندھ ٹھٹہ، بدین، پنگریو، سیہون، ڈپلو اور دیگر شہروں میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے احتجاج کیا گیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک اعلامیے کے مطابق سندھ بھر سے پچاس سے زائد کارکن اور حامی گرفتار کیے گئے ہیں۔ چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔
دوسری جانب ملک کے دیگر شہروں کی طرح کراچی میں بھی صحافیوں نے یوم سیاہ منایا اور سرکاری تقریبات کے بائیکاٹ کا عزم کیا۔ کراچی یونین آف جرنلسٹ کے زیر اہتمام صحافیوں کا احتجاجی جلسہ ہوا جس سے کے یو جے کے صدر شمیم الرحمان، سکریٹری جاوید چودھری، ایسوسی ایشن آف ٹی وی جرنلسٹ کے رہنما جاوید صبا نے خطاب کیا۔ شمیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ملک سے ایمرجنسی خاتمے، گرفتار سیاسی اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کی رہائی اور عدلیہ کی بحالی کے مطالبات کیے گئے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||