BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 February, 2008, 23:38 GMT 04:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات میں فوج، فیصلہ جلد

پاکستان میں سکیورٹی (فائل فوٹو)
حساس پولنگ اسٹیشنوں کی فہرستیں تیار کی جا رہی ہیں: الیکشن کمشنر
پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق نے کہا ہے کہ انتخابات کے دوران پولنگ اسٹیشنوں پر فوج کی تعیناتی کے بارے میں فیصلہ آئندہ چند دنوں کرلیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بات جمعہ کو کراچی میں الیکشن کمیشن کے ایک اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں چاروں صوبائی الیکشن کمشنروں کے علاوہ الیکشن کمیشن کے ممبران نے شرکت کی۔

قاضی محمد فاروق نے صحافیوں کو بتایا کہ اجلاس میں انتخابات کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور اٹھارہ فروری کو پولنگ اسٹیشنوں پر سکیورٹی کے انتظامات کے سلسلے میں مختلف تجاویز پر بھی غور ہوا۔

ناظم مخالف شکایات
 الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سرکاری ویب سائیٹ کے مطابق اسے اب تک ضلع ناظمین کی مداخلت کے بارے میں کل 111 شکایات موصول ہوئیں جس میں 52 کا تعلق پنجاب، 43 کا سندھ، 14 کا صوبہ سرحد اور دو کا بلوچستان سے تعلق ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پولنگ اسٹیشنوں پر فوج کی تعینات کرنے کی تجویز بھی زیر غور آئی لیکن کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بڑا نازک معاملہ ہے اور اس پر صوبائی حکومتوں سے تبادلہ خیال جاری ہے کیونکہ امن و امان برقرار رکھنا بنیادی طور پر صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتیں بھی حساس پولنگ اسٹیشنوں کی فہرستیں تیار کررہی ہیں اور الیکشن کمیشن بھی اپنے ذرائع سے ان کی تصدیق کررہا ہے۔ ’مجھے امید ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنوں کی فہرستیں چند دنوں میں مکمل ہوجائیں گی اور اس کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ انتخابات کے موقع پر امن و امان کے لیے نیم فوجی ادارے ہی کافی ہوں گے یا فوج کو بلایا جائے‘۔

چیف الیکشن کمشنر نے انتخابی عمل میں ضلع ناظمین کی مداخلت کی شکایات کے بارے میں کہا کہ ’ابھی تک کسی ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر نے کسی ناظم کے خلاف کوئی ایسی رپورٹ نہیں بھیجی جس پر ہم اس کے خلاف انضباطی کارروائی کرسکیں‘۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی سرکاری ویب سائیٹ کے مطابق اسے اب تک ضلع ناظمین کی مداخلت کے بارے میں کل 111 شکایات موصول ہوئیں جس میں 52 کا تعلق پنجاب، 43 کا سندھ، 14 کا صوبہ سرحد اور دو کا بلوچستان سے تعلق ہے۔

پولنگ سٹیشن کم
سندھ میں ووٹر زیادہ پولنگ سٹیشن کم
فضل محمدیہ کیسے کیسے ملزم
سندھ ہنگامہ آرائی: کچھ ملزم قبر میں کچھ بستر پر
الیکشن باکسانتخاب پر خدشات
اٹھارہ فروری انتخابات، خدشات برقرار
پیپلز پارٹی کی ریلیصرف تیس
سندھ میں تیس خواتین انتخابات لڑ رہی ہیں
قتل کے بعدسوگ، غم، غصہ
بےنظیر کے قتل پر پاکستان کا کیا حال ہے؟
فائل فوٹودو ہزار سات
سندھ کے لئے تشدد اور آفات کا سال
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد