BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 02 February, 2008, 04:03 GMT 09:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات ملتوی کرائیں گے: کرد
علی احمد کرد
صدر(ر) پرویز مشرف ایک آمر ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ دھاندلی سے اور کسی بھی طریقے سے ایک ایسی اسمبلی وجود میں لائیں جو ان غیر آئینی انتخابات کو تحفظ فراہم کریں۔
پاکستان میں وکلاء تحریک کے ایک اہم رہنما ایڈووکیٹ علی احمد کرد کو جمعہ کی رات بلوچستان میں رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد انہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک کے نتیجے میں الیکشن ملتوی ہو سکتے ہیں اور شاید حکومت بھی یہی چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دھاندلی کے نتائج سے ڈرتی ہے اور اس سے بچنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات صرف صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے عہدے سے ہٹنے کے بعد ہونے چاہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی اطلاع کے مطابق بلوچستان کے ہوم سیکرٹری نے جمعہ کی شام کو صحافیوں کو بتایا کہ علی احمد کرد کے حراست کے احکامات واپس لے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ مکمل طور پر آزاد ہیں۔

حکومت بہانہ چاہتی ہے
 حکومت دھاندلی کے نتائج سے ڈرتے ہوئے کسی نہ کسی بہانے سے انتخابات سے بچنا چاہ رہی ہے۔ وکلاء برادری اور جنرل ریٹائرڈ پرویز پرویز مشرف کے درمیان سمجھوتے کا کوئی امکان نہیں اور وکلاء نے انہیں ایک دن کے لیے بھی آئینی حکمران تسلیم نہیں کیا۔ ہم کسی بھی صورت میں صدر مشرف کے تحت انتخابات کو قبول نہیں کرتے۔
علی احمد کرد
علی احمد کرد نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنیچر سے ہی وہ دوبارہ کام شروع کر دیں گے جیسے وہ تین نومبر تک کر رہے تھے۔ ’میں کل سے دوبارہ کلاء کے ساتھ ان کی تحریک کا حِصہ بن جاؤں گا‘۔

کرد نے وکلاء کی تحریک کی وجہ سے انتخابات کے ملتوی ہونے کےامکان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا صدر(ر) پرویز مشرف ایک آمر ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ وہ دھاندلی سے اور کسی بھی طریقے سے ایک ایسی اسمبلی وجود میں لائیں جو ان غیر آئینی انتخابات کو تحفظ فراہم کریں۔ ’ایجیٹشن ہمارا حق ہے اور ہم لوگوں کو بتائیں گہ ان انتخابات میں مت جائیں یہ فراڈ ہے اور مجھے
یقین ہے کہ لوگ ہماری بات مانیں گے‘۔

انہوں نے کہ ان کی پوری کوشش ہو گی کہ وہ ایسی صورتحال پیدا کریں کہ حکومت انتخابات کو ملتوی کرے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا اندازہ ہے کہ حکومت خود بھی چاہتی ہے کسی طرح انتخابات ملتوی ہو جائیں۔

ملک اور آئین کے لیے
 حلف نے لینے والے جج رانا بھگوان داس کو چیف الیکشن کمشنر بنایا جائے۔ نگران حکومت کا فیصلہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اور اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ مِل کر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئین میں اس کی اجازت نہیں بھی دیتا تو بعض اوقات ملک اور آئین ہی کو بچانے کے لیے ایسا کرنا پڑتا ہے۔
علی احمد کرد
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس طرح وکلاء حکومت کے ہاتھوں استعمال تو نہیں ہو جائیں گے تو انہوں نے کہا کہ ’پاکستانی سیاست میں وکلاء ایک بڑی طاقت کے طور پر موجود ہیں جنہوں نے کہا کہ وہ ان انتخابات کو فراڈ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء تحریک کی ہی وجہ سے بہت سی سیاسی جماعتیں بھی انتخابات سے باہر ہو گئی ہیں۔

علی احمد کرد نے کہا کہ حکومت دھاندلی کے نتائج سے ڈرتے ہوئے کسی نہ کسی بہانے سے انتخابات سے بچنا چاہ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء برادری اور صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے درمیان سمجھوتے کا کوئی امکان نہیں اور وکلاء نے انہیں ایک دن کے لیے بھی آئینی حکمران تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی صورت میں صدر مشرف کے تحت انتخابات کو قبول نہیں کرتے۔

علی احمد کرد نے کہا کہ حلف نے لینے والے جج رانا بھگوان داس کو چیف الیکشن کمشنر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کا فیصلہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اور اثر و رسوخ رکھنے والے لوگ مِل کر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئین میں اس کی اجازت نہیں بھی دیتا تو بعض اوقات ملک اور آئین ہی کو بچانے کے لیے ایسا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہ ان کی تحریک کا مقصد عدلیہ کی آزادی برطرف کیے گئے ججوں کی بحالی ہے۔

اسی بارے میں
’مشرف سے ڈیل مہنگی پڑےگی‘
28 August, 2007 | پاکستان
اعتزاز انتخابات سے دستبردار
12 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد