اعتزاز سپریم کورٹ بار کے صدر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سینئر وکلاء کی نمائندہ تنظیم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے نامور قانون دان اور سابق وزیر داخلہ بیرسٹر اعتزاز احسن کو ایسوسی ایشن کا نیا صدر منتخب کرلیا ہے۔ اعتزاز احسن چیف جسٹس پاکستان مسٹرجسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل رہ چکے ہیں جبکہ ان دنوں صدر جنرل پرویز مشرف کے کاغذات نامزدگی کے خلاف وکلاء کے صدارتی امیدوار جسٹس (ر) وجیہہ الدین کی درخواست کی پیروی کررہے ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ارکان میں ملک بھر سے پندرہ سو بیس چوٹی کے وکلاء شامل ہیں جن میں ایک ہزار دو سودس وکلاء نے سپریم کورٹ بار کی نئی قیادت کے چناؤ کے لیے ووٹ ڈالے۔ سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات میں صدارت کے منصب کے لیے ہرسال چاروں صوبوں میں سے ایک صوبے کی باری ہوتی ہے اور اس مرتبہ پنجاب کی باری تھی۔ اعتزاز احسن آٹھ سو چونسٹھ ووٹوں کی تاریخ ساز برتری سے سپریم کورٹ بار کے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ سینچر کو ہونے والے انتخابات میں معروف قانون دان حامد خان کی قیادت میں قائم پروفیشنل گروپ کے امیدوار اعتزاز احسن نے ایک ہزار انتالیس ہ ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے مدمقابل امیدوار بیرسٹر ظفراللہ خان ایک سو پچھتر ووٹوں ملے۔ غیر سرکاری نتائج کے مطابق نو منتخب عہدیداروں میں صدر کے عہدے پر اعتزاز احسن جبکہ نائب صدر( پنجاب ) غلام نبی بھٹی، نائب صدر( سندھ ) امدار اعوان ، نائب صدر(سرحد )سعید اختر اور نائب صدر( بلوچستان ) سخی سلطان، سیکرٹری امین جاوید میاں، ایڈیشنل سیکرٹری عبدالرشید اعوان شامل ہیں۔ سیکرٹری خزانہ کے عہدے پر ظہیر قادری پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔ سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان کے پروفیشنل گروپ کے مخالف سرکردہ کسی بھی وکلاء گروپ نے صدارت کے عہدے پر اعتزاز احسن کے مدمقابل باضابطہ طور پر کوئی امیدوار نامزد نہیں کیا تھا۔ سپریم کورٹ بار کے سبکدوش ہونے صدر منیر اے ملک اور پاکستان بارکونسل کے سابق وائس چیئرمین علی احمد کرد کا تعلق بھی پروفیشنل گروپ سے ہے۔ اعتزاز احسن پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ہیں جبکہ پارٹی کے سربراہ بینظیر بھٹو نے اعتزاز احسن کو لاہور کے قومی اسمبلی کے انتخابی حلقہ ایک سو چوبیس پارٹی کاامیدوار نامزد کیا ہے۔ لاہور میں نتائج کے اعلان ہوتے ہی وکلاء نے گو مشرف گو کے نعرے لگائے۔ سپریم کورٹ بار کےنومنتخب صدر اعتزاز احسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان نتائج سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انتخابات میں حکومت بری طرح ہار گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف میری جیت نہیں بلکہ صدر جنرل پرویز مشرف کی ایک پسپائی ہے۔ ان کے بقول حکومت نے انتخابات کے لیے جتنی کوشش کی تھی اس کے نتائج صدر مشرف کے لیے لحمہ فکریہ ہیں۔ | اسی بارے میں اعتزاز سپریم کورٹ بار کے امیدوار 11 August, 2007 | پاکستان ’مشرف سے ڈیل مہنگی پڑےگی‘28 August, 2007 | پاکستان ’مارشل لاء دفن کرنا آسان نہیں‘22 October, 2007 | پاکستان ’سیاست فوج کے لیے شجرِ ممنوعہ‘23 October, 2007 | پاکستان ’نااہلیت کی شرط مشرف پر بھی لاگو‘24 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||