اعتزاز احسن کو رہا کر دیا گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن کی نظربندی کے احکامات واپس لے لئے ہیں اور ان کو رہا کردیا گیا ہے۔ اعتزاز احسن کو جمعرات کی شب دس بجے نظربندی میں تیس دنوں کی توسیع کے احکامات وصول کرائےگئے لیکن یہ احکامات کچھ دیر بعد ہی واپس لے لئے گئے۔ اعتزاز احسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی نظربندی کےاحکامات واپس لے لیے گئے ہیں اور ان کی رہائی کے لیے قانونی کارروائی مکمل ہونے پر ان کی رہائش گاہ پر تعینات جیل کے عملے کو وہاں ہٹا لیا گیا ہے۔ اعتزاز احسن کے بقول آئین کے تحت نوے دنوں کی نظربندی کے بعد ان کو ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل ریویو بورڈ کےسامنے پیش کیے بغیر نظر بند نہیں رکھا جاسکتا۔ اس لیے ان کی نظربندی کے احکامات غیر قانونی ہیں۔ اعتزاز احسن جمعرات کی شام اپنےگھر سے باہر آگئے تھے اور ان کے بقول ان کی نظربندی کی معیاد بدھ کی شب ختم ہوگئی تھی جس کےبعد ان کو قانونی طور پر نظربند نہیں رکھا جاسکتا۔ پولیس نے اعتزاز کو اس وقت گھیرے میں لے لیا جب وہ اپنی رہائش گاہ سے لاہور پریس کلب جانا چاہتے تھے۔ تاہم وہ اپنی رہائش گاہ کے قریب واقع زمان پارک تک پہچنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس موقع پر اعتزاز احسن اور پولیس کے درمیان دھکم پیل ہوئی۔ اس تمام کارووائی کے دوران وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان بھی زمان پارک اکٹھے ہوئے اور انہوں نے اعتزازاحسن کو حراست میں لینے سے روک دیا۔ اعتزاز احسن نے وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان کی موجودگی میں اخبار نویسوں سے بات چیت میں کہا کہ ان کی نظربندی تیس جنوری کو ختم ہوگئی تھی جس کے بعد ان کو تمام دن غیر قانونی حراست میں رکھا گیا ہے۔ اسی دوران اعتزاز احسن کو نظربندی کے احکامات دکھائے گئے جن کو اعتزاز احسن نے تسلم کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ ان احکامات پر مجاز حکام کے کوئی دستخط نہیں ہیں۔ تاہم اعتزاز احسن پولیس کی موجودگی میں وکلاء اور سوسائٹی کےارکان کے ہمراہ دوباہ اپنے گھر آگئے جہاں انہوں نے سپریم کورٹ بار کے عہدیداروں کے علاوہ دیگر افراد کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے فوراً بعد گرفتار کیے گئے وکلاء میں اعتراز احسن بھی شامل ہیں۔ ان کو اسلام آباد سے اُس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنے گھر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اعتزاز احسن کو گرفتار کرنے کے بعد ایک ماہ کے لیے اڈیالہ جیل میں نظربند کردیا گیا۔ تاہم عام انتخابات میں لاہور کے انتخابی حلقہ سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لیے ان کو چوبیس نومبر کی رات کو اڈیالہ جیل سے لاہور ان کی رہائش گاہ پر منتقل کردیا گیا تھا اور ان کے گھر کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔ حکومت پنجاب نےعیدالاضحی کےموقع پراعتزازاحسن کی نظربندی تین روز کے لیے معطل کی تھی لیکن حکومت نے چوبیس گھنٹوں کے بعد ہی نظر بندی کی معطلی کے احکامات واپس لے لیے تھے جس بعد اعتزاز احسن کو راولپنڈی کے راستے میں چکری کے مقام پر دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اعتزاز احسن کی نظربندی میں تین نومبر سے چوتھی مرتبہ توسیع کی گئی۔ پہلی مرتبہ اعتزازاحسن کی نظربندی کے احکامات وفاقی حکومت نےجاری کئے تھے لیکن حکومت پنجاب نے اعتزاز احسن کی نظربندی کے تین مرتبہ احکامات جاری کیے اور چوتھی بار جاری ہونے والے احکامات کو کچھ دیر بعد واپس لے لیا گیا۔ | اسی بارے میں اعتزاز ایک بار پِھر گرفتار 20 December, 2007 | پاکستان اعتزاز احسن کا خط06 December, 2007 | پاکستان ’آئین میں فوج حکومت کی تابع‘27 September, 2007 | پاکستان ’مشرف سے ڈیل مہنگی پڑےگی‘28 August, 2007 | پاکستان اعتزاز سپریم کورٹ بار کے صدر 27 October, 2007 | پاکستان ’سیاست فوج کے لیے شجرِ ممنوعہ‘23 October, 2007 | پاکستان اعتزاز کی نظر بندی میں توسیع01 January, 2008 | پاکستان اعتزاز سے ملک قیوم کی ملاقات18 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||