BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 December, 2007, 21:19 GMT 02:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اعتزاز ایک بار پِھر گرفتار

پاکستانی وکلاء(فائل فوٹو)
ججوں کی بحالی کے لیے عدلیہ بس کا آغاز کریں گے: اعتزاز
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن کی نظر بندی کی معطلی کے احکامات واپس لیے جانے کے بعد انہیں راولپنڈی کے راستے میں چکری کے مقام پر دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اعتزاز احسن نے گرفتاری سے کچھ ہی دیر پہلے بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں عید کی نماز پڑھنے سے روکا جا رہا ہے اور ان کی اطلاع کے مطابق معزول چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کو بھی فیصل مسجد عید کی نماز کے لیے جانے سے روکا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’جسٹس سردار رضا خان، جسٹس ناصر الملک اور جسٹس شاکر اللہ جان بھی نظر بند ہیں اور انہیں بھی عید کی نمآم کے لیے فیصل مسجد جانے سے روک دیا گیا ہے‘۔

اعتزاز احسن ابھی بی بی سی بات کر رہے تھے کہ پولیس انہیں پکڑنے آ گئی۔ اس کے بعد فون پر ان کی آواز آ رہی تھی جس میں وہ کسی کو پیچھے رہنے کے لیے کہہ رہے تھے اور ان کے ساتھی پولیس والوں سے گرفتاری کا آرڈر مانگ رہے تھے۔ پھر معلوم ہوا جیسے دھکم پیل ہوئی ہو اور کچھ لوگ بار بار کہہ رہے تھے کہ ’زیادتی نہ کریں، کیا یہ دشمن ہیں‘۔ فون بند ہونے سے پہلے ایک پولیس اہلکار نے چونترا کے ایس ایچ او فریاد شاہ کے طور پر اپنا تعارف کروایا، اس کے ساتھ شور جاری تھا اور پھر فون بند ہو گیا۔

اعتزاز احسن کوپنجاب پولیس نے راولپنڈی کے قریب اس وقت حراست میں لیا جب وہ موٹر وے کے راستے لاہور سے اسلام آباد جارہے تھے جہاں اعتزاز احسن نے جمعہ کی صبح معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ہمراہ فیصل مسجد اسلام آباد میں نماز عید ادا کرنی تھی۔

پی پی پی اور عدلیہ
 پی پی پی کا کہنا ہے کہ عدلیہ کی بحالی کا فیصلہ اگلی پارلیمان کرے۔ ججوں کی بحالی عوامی مطالبہ ہے اور اگلی پارلیمان ایسا کرنے پر مجبور ہو گی۔ ابھی کچھ جماعتیں وکلاء کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہیں لیکن جب وہ الیکشن میں دھاندلی دیکھ لیں گے تو ان کی رائے بھی بدل جائے گی۔
اعتزاز احسن

اعتزاز احسن کے ساتھی وکیل شوکت علی جاوید ایڈووکیٹ کے مطابق پنجاب پولیس نے اعتزاز احسن کو حراست میں لیتے وقت ان کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کیا۔

اعتزاز احسن نے کہا تھا کہ وہ مبینہ طور پر معطل جج صاحبان کی بحالی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے اور وکلاء اس بات پر متفق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو کتنی دیر گرفتار رکھا جا سکتا ہے۔ ’ابھی الیکشن ہیں، لوگ مصرف ہوں گے، اس کے بعد ہم پارلیمان کو ججوں کو از خود بحال لکرنے کے لیے دو یا زیادہ سے زیادہ تین ہفتے دیں گے اور اس کے بعد اپنی تحریک چلائیں گے‘۔

عدلیہ کی بحالی کے بارے میں پی پی پی کے موقف کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی پی پی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اگلی پارلیمان کرے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی عوامی مطالبہ ہے اور اگلی پارلیمان ایسا کرنے پر مجبور ہو گی۔

انہوں نے اپنی نظر بندی کے بارے میں کہا کہ حکومت گھبرائی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’دہشتگردوں‘ کو تو بھگا دیا جاتا اور ’ہم جن کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ان کے اوپر ان کا سارا زور چلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں پیغام ملتا رہا کہ وہ الیکشن سے دستبردار نہ ہوں اور انہیں جتوا دیا جائے گا۔

حکومت پنجاب نےعید کی وجہ سے اعتزاز احسن کی نظربندی کے احکامات کو تین روز کے لیے معطل کرتے ہوئے انہیں عارضی بنیاد پر رہا کیا تھا۔ اعتزاز احسن کی نظربندی تئیس دسمبر کے صبح سے دوبارہ شروع ہونی تھی۔

شوکت علی جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہ اعتزاز احسن کو راولپنڈی کے قریب گرفتار کیا گیا ہے اور حکومت پنجاب نے اعتزاز احسن کی نظربندی کی معطلی کے احکامات واپس لے لیے ہیں۔ان کے بقول اعتزاز احسن کو دوبارہ لاہور لیجایا جارہا ہے جہاں ان کو ان کی رہائش گاہ پانچ زمان پارک میں نظربند کر کے ان کی اقامت گاہ کو سب جیل قرار دے دیا جائے گا۔

اسی بارے میں
اعتزاز کی نظربندی میں توسیع
03 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد