BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 December, 2007, 11:07 GMT 16:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اعتزاز کی نظربندی میں توسیع

اعتزاز احسن
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اور پیپلز پارٹی کے رہنما بیرسٹر اعتزاز احسن کی نظربندی کے سلسلے میں نئے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں جن کا مدت ایک ماہ ہے۔

اعتزاز احسن کی اہلیہ بشریْ اعتزاز نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ حکومت پنجاب نے ان کے شوہر کی نظربندی میں توسیع کے نئے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ ان کے بقول اعتزاز احسن کی نظربندی کے پہلے احکامات وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے احکامات کی معیاد دو دسمبر کو ختم ہونے پر پنجاب حکومت کی طرف سے نظر بندی کے نئے احکامات جاری کئے گئے ہیں جن کے مطابق اعتزاز احسن کو مزید ایک ماہ کے لیے نظر بند کردیا گیا ہے۔

ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے فوراً بعد گرفتار کیے گئے وکلاء میں اعتراز احسن بھی شامل ہیں۔ ان کو اسلام آباد سے اُس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنے گھر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

اعتزاز احسن کو گرفتار کرنے کے بعد ایک ماہ کے لیے اڈیالہ جیل میں نظربند کردیا گیا۔ تاہم عام انتخابات میں لاہور کے انتخابی حلقہ سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لیے ان کو چوبیس نومبر کی رات کو اڈیالہ جیل سے لاہور ان کی رہائش گاہ پر منتقل کردیا گیا تھا اور ان کے گھر کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔

اعتزاز احسن کی نظربندی کی معیاد اتوار کو ختم ہو رہی تھی لیکن ان کو رہا کرنے کی بجائے محکمہ داخلہ کی جانب سے ان کی نظربندی کے احکامات میں ایک ماہ کی توسیع کردی گئی ہے۔

اعتزاز احسن کی رہائی کے لیے ان کی اقامت گاہ کے باہر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کے روز امریکہ کی ایک این جی او کوڈپنک کے ارکان اور پاکستانی وکلاء رہنماؤں نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور اعتزاز کے نظربندی کے خلاف نعرہ بازی کی۔

ہمارے نامہ نگار احمد نور نے لاہور سے بتایا کہ پاکستان میں امریکی سفیر این پیٹرسن جب اعتزاز احسن سے ملاقات کرنے کے لئے ان کی رہائش گاہ پہنچیں تو ان کو حکومت نے اعتزاز سے ملاقات کی اجازت نہیں دی۔ لہٰذہ انہوں نے اعتزاز احسن کی اہلیہ بشریٰ اعتزاز سے ملاقات کی۔ امریکی سفیر نے کہا کہ وہ کسی سیاسی لیڈر سے نہیں بلکہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سے ملنے آئی تھیں۔

امریکی سفیر نے بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر سیاسی لیڈران کو اسی طرح قید رکھا گیا تو شفاف انتخابات کا انعقاد بہت مشکل ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اعتزاز سے دوبارہ ملاقات کے لئے حکومت سے درخواست کریں گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد