BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 20 December, 2007, 08:39 GMT 13:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نئی اسمبلی کو تین ہفتے دیں گے‘

اعتزاز احسن
ججز کی بحالی کے لیے جوڈیشل بس کا آغاز کریں گے
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والےججز کی بحالی کے لیے نئی پارلیمنٹ کو دو سے تین ہفتے دیں گے۔

حکومت نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن سمیت تین وکلاء رہنماؤں کی نظر بندی تین روز کے لیے معطل کر دی ہے۔ انہیں یہ رعایت عیدالاضحیٰ کے پیش نظر دی گئی ہے۔

اعتزاز احسن کے ساتھی وکیل شوکت علی جاوید نے بی بی سی کو بتایا کہا اعتزاز احسن جمعرات کی شب اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ جمعہ کو معزول چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کے ہمراہ فیصل مسجد میں نماز عید ادا کریں گے۔

شوکت علی جاوید کے مطابق وفاقی وزیر قانون سید افضل حیدر نے اعتزاز احسن سے ون ٹو ون ملاقات بھی کی ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو اعتزاز احسن ایک جلوس کی صورت میں پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والےجج جسٹس خواجہ شریف کے گھر گئے جہاں جسٹس خواجہ نے ان کو ہار پہنا کر ان کا خیرمقدم کیا۔

کئی جج اور کئی ڈرائیور
 پہلے ایک جج تھا اور ایک ڈرائیور لیکن اب پینتالیس ججز ہیں اور بے شمار ڈرائیور ہیں
اعتزاز احسن

اعتزاز احسن نے کہا کہ آنے والی پارلیمنٹ نے اگر دو تین ہفتوں میں پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والےججز کو بحال نہ کیا تو وہ خود ان ججز کی بحالی کے لیے جوڈیشل بس کا آغاز کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آنے والی پارلیمنٹ کو ہم تسلیم نہیں کریں گے کیونکہ ابھی ہی سے سیاسی جماعتوں کی طرف سے دھاندلی کے الزامات لگ رہے ہیں۔ ’اس کے باوجود ہم اس پارلیمنٹ کو دو سے تین ہفتے دیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے تمام ججز اب بھی ججز ہیں اور نئی پارلیمنٹ ان کے کاموں میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ایک جج تھا اور ایک ڈرائیور لیکن اب پینتالیس ججز ہیں اور بے شمار ڈرائیور ہیں۔

واضح رہے کہ عارضی رہائی پانے والوں میں سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود شامل ہیں۔

اعتزاز احسن
’پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے تمام ججز اب بھی ججز ہیں اور نئی پارلیمنٹ ان کے کاموں میں رکاوٹ نہ ڈالے‘

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر اعتزاز احسن پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والےججز شیخ عظمت سعید اور آصف سعید کھوسہ کے گھر بھی گئے اور ان سے اظہار یکجہتی کی۔

اعتزاز احسن نے ججوں کی بحالی کے لیے جوڈیشل بس چلانے کا اعلان چھ دسمبر کو تمام بار کونسلوں کے نام ایک خط میں کیا تھا۔

اعتزاز احسن نے ان کے علاوہ جسٹس ایم اے شاہد صدیقی، اعجاز چوہدری اور سپریم کورٹ کے جسٹس تصدق حسین جیلانی سے بھی ملاقاتیں کیں۔

جسٹس ایم اے شاہد صدیقی نے کہا کہ یہ معاملہ ایک فرد کا نہیں رہا بلکہ ملک اور اداروں کا مسلہ ہےآ انہوں نے کہا کہ ان کے گھر کے باہر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں جن کی وجہ سے وہ عملی طور پر قید ہو کر رہ گئے ہیں۔

اس سے قبل عارضی رہائی پر ان کے گھر کے باہر وکلاء جمع ہو گئے اور سپریم کورٹ کے سابق جسٹس ضیاء محمود مرزا بھی ان کے گھر گئے اور ان کو مبارک باد دی۔

بعد میں اعتزاز احسن لاہور پریس کلب گئے اور صحافیوں کے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی۔

اعتزاز احسن
عارضی رہائی پانے والوں میں سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ صحافیوں کی جنگ میں برابر کے شریک ہیں اور ان کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی فرد واحد کو آئین میں ترمیم کرنے کا کوئی حق نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر مشرف نے ایک انتظامی حکم کے تحت جو ترامیم کی ہیں ان کو ختم کرنے کے لیے پارلیمان کی دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان ترامیم کو عوامی دباؤ پر نئے آرمی چیف جنرل پرویز کیانی خود ختم کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ قاف کے حوصلے ختم ہو گئے ہیں اور وہ بھاگ رہے ہیں اور کامیابی کے لیے دھاندلی کا سہارے لی رہے ہیں۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار ملک شہزاد نے بتایا کہ عارضی طور پر رہا کیے گئے سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود آج اسلام آباد میں واقع راولپنڈی پریس کلب کے کیمپ آفس گئے۔ انہوں نے کہا کہ کل صبح وہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے ملنے جائیں گے اور ان کو ساتھ لے کر عید کی نماز فیصل مسجد میں ادا کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آزاد عدلیہ نہیں چاہتی اور وکلاء کی تحریک ججوں کی بحالی تک جاری رہے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس ملک میں انصاف نہیں ہوتا اس ملک کا قیام خطرے میں رہتا ہے۔

اسی بارے میں
اعتزاز کی نظربندی میں توسیع
03 December, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد