BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 September, 2007, 19:07 GMT 00:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’صرف ایک فیصلے سے جمہوریت بحال نہیں ہوتی‘

’پہلا راؤنڈ اسٹیبلشمنٹ جیت گئی ہے‘
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے صدر جنرل پرویز مشرف کی وردی کے خلاف درخواستوں کو میرٹ پر نہیں بلکہ فنی بنیادوں پر خارج کیا ہے اس لیے صدر مشرف کے انتخاب میں حصہ لینے کے بارے میں الیکشن کمیشن کے سامنے اعتراضات اٹھائے جا سکتے ہیں اور اعتراضات مسترد ہونے پر قانونی چارہ جوئی کے لیے دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ناصر اسلم زاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے صدر مشرف کے وردی کے خلاف درخواستیں ناقابل سماعت ہونے کے بنیاد پر خارج کی ہیں اور عدالت نے صدر مشرف کی وردی ، ان کے صدارتی انتخاب لڑنے اور موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے نکات پر کوئی فیصلہ نہیں دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کو درخواستوں پر ابتدائی سماعت کے پہلے دو دنوں میں اس بارے میں فیصلہ دینا چاہیے تھا کہ یہ درخواستیں قابل پیش رفت ہیں یا نہیں۔ ان کے بقول سپریم کورٹ کے درخواستوں میں تمام وکلاء کے دلائل میرٹ پر سننے کے بعد درخواستوں کے ناقابل سماعت ہونے پر فیصلہ دیا ہے۔

ناصر اسلم زاہد کی رائے میں سپریم کورٹ کے فنی بنیادوں پر دیئے گئے فیصلے سے یہ لگتا ہے کہ پہلا راؤنڈ اسٹیبلشمنٹ جیت گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اعتراضات مسترد ہونے پر مخالف امیدوار جب سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے تو اس وقت یہ صورت پیدا ہوسکتی ہے کہ سپریم کورٹ یہ فیصلہ دے کہ اب صدارتی انتخاب کی تاریخ سر پر آچکی ہے اور اس لئے ان درخواستوں پر سماعت نہیں ہوسکتی۔

ان کے بقول عدالت یہ بھی فیصلہ دے سکتی ہے کہ یا تو صدارتی نتائج کو عدالتی فیصلے سے مشروط قرار دے دے یا پھر انتخابات کو عدالت فیصلے تک موخر کر دیا جائے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عابد حسن منٹو کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے لارجر بنچ کے فیصلہ کے بعد یہ مقدمہ ختم نہیں ہوا کیونکہ یہ درخواستیں واقعی فنی بنیادوں پر خارج ہوئی ہیں تو میرٹ کی بنیاد پر کیس ختم نہیں ہوا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ صدر مشرف کی اہلیت کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے سامنے بھی اعتراضات اٹھائے جائیں گے۔

صدر مشرف کی وردی کے خلاف درخواست ایک اور ٹریک پر چلے گی

ان کے بقول صدر مشرف کے وردی کے خلاف درخواستوں اور چیف جسٹس پاکستان کے حق میں فیصلے دونوں کی نوعیت مختلف ہے اور ان میں فرق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کیس کا تعلق سپریم کورٹ کے اپنے معاملات تعلق رکھتا ہے۔

عابد حسن منٹو کا یہ بھی کہنا تھا کہ’ صرف ایک فیصلے سے ملک میں جمہوریت بحال نہیں ہو سکتی، اس کے لیے جدو جہد کرنی پڑتی ہے‘۔

نامور قانون دان بیرسٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کے کاغذات نامزدگی انہیں بنیادوں پر الیکشن کمیشن کے سامنے چیلنج ہونگے جن بنیادوں پر یہ درخواستیں دائر کی گیئں تھیں۔ان کے بقول صدر مشرف کی وردی کے خلاف درخواست ایک اور ٹریک پر چلے گی اور یہ ’ٹریک ٹو‘ ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمشنر جسٹس (ر)قاضی فاروق کی جانب سے صدر مشرف کے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

سابق وفاقی وزیر قانون ایس ایم مسعود نے کہا کہ سپریم کورٹ کے مختصر فیصلے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ صدر مشرف کی وردی کے خلاف درخواستیں ناقابل سماعت ہونے کی بنیاد پر مسترد ہوئی ہیں اور صدر مشرف کے انتخاب میں حصہ لینے کی اہلیت کے تعین کا معاملہ الیکشن کمیشن پر چھوڑ دیا ہے۔

 صدر مشرف کی صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے بارے میں اہلیت کو الیکشن کمیشن کے سامنے چیلنج کیا جاسکتا ہے اور الیکشن کمیشن کو صدر مشرف کی اہلیت کا تعین کرنا ہوگا۔
اشتر اوصاف علی

ان کی رائے ہے کہ الیکشن کمیشن کے روبرو بھی مخالف صدارتی امیدوار صدر مشرف کی اہلیت کے بارے میں اعتراضات اٹھاسکتے ہیں اور اعتراضات مسترد ہونے پر عدالت سے رجوع کیا جاسکتاہے اور پھر عدالتوں کو میرٹ کی بنیاد پر صدر مشرف کی اہلیت کا فیصلہ کرنا ہوگا۔

سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اشتر اوصاف علی کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ نے ابھی صدر مشرف کے وردی میں انتخاب لڑنے کے بارے میں فیصلہ نہیں کیا ہے بلکہ سپریم کورٹ کے چھ ججوں نے صرف یہ کہا ہے کہ یہ درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں اور درخواستوں کو میرٹ پر سننے سے انکار کردیاہے۔ ان کے بقول سپریم کورٹ کے تین ججوں نے نہ صرف درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا ہے بلکہ ان کو منظور بھی کرلیا ہے۔

ان کی قانونی رائے میں سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ نہیں کیا ہے کہ آیا صدر مشرف انتخاب لڑسکتے ہیں یا نہیں۔سپریم کورٹ نے اس سوال کے جواب کو مؤخر کردیا ہے۔ اشتر اوصاف علی کا یہ بھی کہنا ہے کہ صدر مشرف کی صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے بارے میں اہلیت کو الیکشن کمیشن کے سامنے چیلنج کیا جاسکتا ہے اور الیکشن کمیشن کو صدر مشرف کی اہلیت کا تعین کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ سپریم کورٹ یہ فیصلہ دیتی کہ صدر مشرف صدارتی انتخاب کے لیے اہل ہیں لیکن عدالت نے ایسا فیصلہ نہیں دیا ہے جس کا مطلب ہے یہ معاملہ طول پکڑے گا۔

قانون دان منظور ملک کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فل بنچ نے درخواستوں کو فنی بنیادوں پر مسترد کیا ہے اور عدالت نے قرار دیا کہ یہ درخواستیں قابل سماعت نہیں ہیں۔ان کے بقول عدالت کو پہلے یہ فیصلہ کرنا چاہئے تھا کہ آیا یہ درخواستیں قابل سماعت ہیں یا نہیں۔

منظور ملک کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کسی امیدوار کی طرف سے صدر مشرف کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کے اعتراض کے بارے میں درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرلتی ہے تو عدالت کے پاس صدارتی انتخاب کو درخواست کے حتمی فیصلہ تک موخر کرنے کا بھی آئینی حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے صدر کی وردی کے بارے میں فیصلہ پر ابھی گنجائش موجود ہے اور امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔

جسٹس(ر)وجیہہ الدینبراہِ راست چیلنج
وکلا کا صدر مشرف کو براہِ راست چیلنج ہے۔
صدر مشرفصدارتی انتخابات
حزبِ اختلاف کی دھمکیاں اورامن و امان
صدر کا حلقہ انتخاب
’مسئلہ انتخاب کا نہیں اخلاقی جواز کا ہے‘
اسی بارے میں
حکمران مسرور، اپوزیشن مایوس
28 September, 2007 | پاکستان
فیصلہ صدر جنرل مشرف کے حق میں
28 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد