’علی احمد کرد کے گھر پر نماز عید‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان بار ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان بار کونسل کے سابق نائب چیئرمین علی احمد کرد کو اگر فوری طور پر رہا نہیں کیا گیا تو کل عید کی نماز ان کے گھر کے سامنے ادا کی جائے گی۔ اعتزاز احسن سمیت وکلاء رہنماؤں کو تین روز کے لیے رہا کر دیا گیا ہے لیکن کوئٹہ میں نظر بند علی احمد کرد کو تاحال رہا نہیں کیا گیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے علی احمد کرد نے کہا ہے کہ انہیں جیل حکام نے صبح کہا تھا کہ وہ درخواست دے دیں تو انہیں رہا کر دیا جائے گا لیکن انہوں نے درخواست دینے سے انکار کر دیا ہے۔ علی احمد کرد نے کہا ہے کہ اپنی رہائی کے لیے نہ تو اعتزاز احسن اور نا ہی وکلاء کے کسی اور رہنما نے درخواست دی ہے۔ علی احمد کرد کو ملک میں ایمر جنسی کے نفاذ کے فوراُ بعد اسلام آباد سے کوئٹہ آتے ہوئے راستے میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ کچھ عرصے تک تو ان کے گھر والوں کو بھی علم نہیں تھا کہ علی احمد کرد کو کہاں رکھا گیا ہے۔ بعد میں انہیں کوئٹہ جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ ایمر جنسی کے خاتمے کے بعد انہیں اپنے گھر میں نظر بند کردیا گیا ہے۔ ادھر بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر باز محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ اگر علی احمد کرد کو رہا نہ کیا گیا تو وہ تمام وکلاء اور سول سوسائٹی کے دیگر افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ علی احمد کرد کے گھر کے سامنے نماز عید ادا کریں۔ انہوں نے کہا ہے کہ تمام وکلاء کو اس بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے۔ کوئٹہ پولیس کے مطابق انہیں معلوم ہوا ہے کہ علی احمد کرد کو رہا کیا جا رہا ہے لیکن تاحال انہیں تحریری طور پر کوئی احکامات موصول نہیں ہوئے ہیں۔ |
اسی بارے میں وکلاء رہنماؤں کی نظربندی معطل19 December, 2007 | پاکستان ’عدالتی احکامات کو اہمیت دیں‘18 December, 2007 | پاکستان کوئٹہ:ایم ایم اے، الگ الگ مظاہرے16 November, 2007 | پاکستان لاپتہ صحافی کی گھر واپسی21 June, 2007 | پاکستان مذاکرات مسترد، استعفے کا مطالبہ22 March, 2007 | پاکستان کوئٹہ میں احتجاج، یوم سیاہ13 March, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||