BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 December, 2007, 10:42 GMT 15:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عدالتی احکامات کو اہمیت دیں‘
سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کے تین رکنی بیچ نے جیو کی بندش کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت بھی کی
پی سی او کے تحت حلف لینے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس نواز عباسی نے کہا ہے کہ عدالت کو کم اہمیت نہ دی جائے۔

یہ ریمارکس انہوں نے انتیس ستمبر کو اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کی طرف سے وکلاء اور صحافیوں پر تشدد کے واقعے کا سپریم کورٹ کی طرف سے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران دیئے۔

پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لیکر اس وقت کے آئی جی اسلام آباد سید مروت علی شاہ، ایس ایس پی ڈاکٹر محمد نعیم اور ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد علی کو معطل کردیا تھا۔

ان تینوں سرکاری افسران نے اپنی معطلی کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے اور منگل کے روز اس پر ہونے والی کارروائی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حکومت سے جواب مانگا ہے کہ ان مزکورہ افسران کے خلاف ابھی تک کیا کارروائی ہوئی ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل ناہیدہ محبوب الہی نے عدالت کو بتایا کہ وزارت داخلہ نے انہیں ایک خط لکھا ہے جس میں ان افسران کے خلاف جاری کارروائی کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے وہ خط عدالت کو دے دیا جس پر بینچ میں شامل جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ عدالت کو انڈر ایسٹیمیٹ نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت عدالت کو بتائے کہ ان افسران کے خلاف کیا کارروائی ہوئی ہے۔عدالت نے وہ خط ڈپٹی اٹارنی جنرل کو واپس کر دیا۔

اسلام آباد کی پولیس اور انتظامیہ کے ان افسران کے وکیل راجہ بشیر نے عدالت کو بتایا کہ ان افسران کو معطل ہوئے دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور ابھی تک ان کے خلاف کوئی انکوائری شروع نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس عرصے کے دوران کسی سرکاری افسرکے خلاف کوئی کارروائی نہ شروع ہوئی ہو تو معطلی خود بخود ختم ہوجاتی ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ان افسران کے بارے میں جواب کے لیے کتنا وقت درکار ہے جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اٹارنی جنرل اس وقت ملک سے باہر ہیں اور ان کے وطن واپس آنے کے بعد اس کے متعلق عدالت کو آگاہ کردیا جائے گا۔عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت دو جنوری تک ملتوی کردی۔

جیو کی بندش
سپریم کورٹ کےاسی تین رکنی بیچ نے جیو کی بندش کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل محمد علی مظہر نے ان درخواستوں کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تین نومبر کو ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد متعدد پرائیویٹ ٹی وی چینل بند کر دئیے گئے جس میں ان کا چینل بھی شامل تھا۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ایمرجسنسی کے دوران بنیادی انسانی حقوق معطل کیےگئے تھے کاروباری حقوق معطل نہیں ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سندہ ہائی کورٹ نے ان کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں جس پر چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب وہ دوبارہ درحواست دائر کردیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وہ ان کی درخواستوں کو سندھ ہائی کورٹ کو ریمانڈ کردیں جس پر بینچ میں شامل جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ وہ دوسرے فریق کو سنے بغیر ان درخواستوں کو کیسے ریمانڈ کر سکتے ہیں۔ عدالت نے فیڈریشن اور پیمرا کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ان درخواستوں کی سماعت یکم جنوری تک ملتوی کردی۔

ملک سے ایمرجنسی کے اٹھنے کے باوجود سپریم کورٹ میں صرف ان افراد اور وکلاء کو داخلے کی اجازت ہے جن کو سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے پاسز جاری کیے ہیں اور سپریم کورٹ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

باعزت برخاستگی
حکومت حلف نہ لینے والے ججوں کی باعزت برخاستگی چاہتی ہے
معزول جج
’عدلیہ کی بحالی، امریکہ برطانیہ دباؤ نہیں ڈال رہے‘
سیاستدان سامنے آئیں
عدلیہ بحالی صرف وکلاء کا کام نہیں: معزول جج
بار سے چھٹی
انتخابات لڑنے والے وکلاء رکن نہیں رہیں گے
ہیومن رائٹس واچ’عدلیہ بحال کرو‘
آئین کی نام نہاد بحالی ہوئی: ہیومن رائٹس واچ
بھگوان دس سنیچر کو ریٹائر ہورہے ہیں’آئین سے انحراف‘
نئے حلف آئین سے انحراف: معزول ججز
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد