’عدالتی احکامات کو اہمیت دیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پی سی او کے تحت حلف لینے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس نواز عباسی نے کہا ہے کہ عدالت کو کم اہمیت نہ دی جائے۔ یہ ریمارکس انہوں نے انتیس ستمبر کو اسلام آباد پولیس کے اہلکاروں کی طرف سے وکلاء اور صحافیوں پر تشدد کے واقعے کا سپریم کورٹ کی طرف سے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران دیئے۔ پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے سپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لیکر اس وقت کے آئی جی اسلام آباد سید مروت علی شاہ، ایس ایس پی ڈاکٹر محمد نعیم اور ڈپٹی کمشنر چوہدری محمد علی کو معطل کردیا تھا۔ ان تینوں سرکاری افسران نے اپنی معطلی کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے اور منگل کے روز اس پر ہونے والی کارروائی میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حکومت سے جواب مانگا ہے کہ ان مزکورہ افسران کے خلاف ابھی تک کیا کارروائی ہوئی ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل ناہیدہ محبوب الہی نے عدالت کو بتایا کہ وزارت داخلہ نے انہیں ایک خط لکھا ہے جس میں ان افسران کے خلاف جاری کارروائی کے بارے میں بتایا گیا ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے وہ خط عدالت کو دے دیا جس پر بینچ میں شامل جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ عدالت کو انڈر ایسٹیمیٹ نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ حکومت عدالت کو بتائے کہ ان افسران کے خلاف کیا کارروائی ہوئی ہے۔عدالت نے وہ خط ڈپٹی اٹارنی جنرل کو واپس کر دیا۔ اسلام آباد کی پولیس اور انتظامیہ کے ان افسران کے وکیل راجہ بشیر نے عدالت کو بتایا کہ ان افسران کو معطل ہوئے دو ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اور ابھی تک ان کے خلاف کوئی انکوائری شروع نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس عرصے کے دوران کسی سرکاری افسرکے خلاف کوئی کارروائی نہ شروع ہوئی ہو تو معطلی خود بخود ختم ہوجاتی ہے۔ بینچ کے سربراہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ان افسران کے بارے میں جواب کے لیے کتنا وقت درکار ہے جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اٹارنی جنرل اس وقت ملک سے باہر ہیں اور ان کے وطن واپس آنے کے بعد اس کے متعلق عدالت کو آگاہ کردیا جائے گا۔عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت دو جنوری تک ملتوی کردی۔ جیو کی بندش انہوں نے کہا کہ سندہ ہائی کورٹ نے ان کی درخواست یہ کہہ کر مسترد کر دی کہ بنیادی انسانی حقوق معطل ہیں جس پر چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب وہ دوبارہ درحواست دائر کردیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وہ ان کی درخواستوں کو سندھ ہائی کورٹ کو ریمانڈ کردیں جس پر بینچ میں شامل جسٹس نواز عباسی نے کہا کہ وہ دوسرے فریق کو سنے بغیر ان درخواستوں کو کیسے ریمانڈ کر سکتے ہیں۔ عدالت نے فیڈریشن اور پیمرا کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے ان درخواستوں کی سماعت یکم جنوری تک ملتوی کردی۔ ملک سے ایمرجنسی کے اٹھنے کے باوجود سپریم کورٹ میں صرف ان افراد اور وکلاء کو داخلے کی اجازت ہے جن کو سپریم کورٹ کی انتظامیہ نے پاسز جاری کیے ہیں اور سپریم کورٹ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||