’امریکہ، برطانیہ دباؤ نہیں ڈال رہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تین نومبر کو عبوری آئینی حکمنامے کے اجراء کے بعد معزول کیے جانے والے پشاور ہائی کورٹ کے جج جسٹس دوست محمد خان نے کہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے حکومت پاکستان پر ججوں اور عدلیہ کی بحالی کے لیے دباؤ نہ ڈالنا افسوسناک امر ہے۔ پشاور میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر بی بی سی کو ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا: ’بیوروکریٹس اور پچھلی حکومت کے ارکان کو چھوڑ کر باقی تمام قوم ججوں کی بحالی چاہتی ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ اس سلسلے میں زیادہ دباؤ نہیں ڈال رہے بلکہ اب تو یہ کہا جارہا ہے کہ امریکہ سے اجازت کے بعد انہوں نے ججوں کو برطرف کیا۔‘ معزول جسٹس دوست محمد خان پشاور ہائی کورٹ کے تیرہ میں سے ان چار ججوں میں سے ہیں جنہوں نے تین نومبر کو جاری کیے گئے عبوری آئینی حکمنامے کے تحت بطور جج دوبارہ حلف اٹھانے سے انکار کر دیا تھا۔ اپنی برطرفی کے احکامات کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ’مجھے تاحال تحریری طور پر کوئی حکمنامہ نہیں ملا اور نہ ہی سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کے حوالے سے کوئی نوٹس موصول ہوا ہے۔‘ ایک صوفہ سیٹ اور چند کرسیوں پر مشتمل فرنیچر سے مزین اپنی رہائش گاہ کے چھوٹے سے مہمان خانے میں دیے گئے انٹرویو میں جسٹس دوست محمد خان نے برطرفی کے معاملہ پر کہا کہ جب کسی جج نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اٹھایا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اب جج نہیں۔ ’ایسے میں حکومت کو باقاعدہ حکمنامہ جاری کرنے کی کیا ضرورت ہے؟‘ پشاور کے بہترین سرکاری رہائشی علاقے ریس کورس روڈ پر واقع ان کی وسیع رقبہ پر مشتمل رہائش گاہ سے نہ تو پولیس کے سکیورٹی گارڈز واپس بلائے گئے ہیں اور نہ ہی ان کی سرکاری کالے رنگ کی ٹویوٹا گاڑی پر سے پشاور ہائی کورٹ کے ججوں والی مخصوص نمبر پلیٹ ہٹائی گئی ہے۔ ججوں کی برطرفی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ فوج کا سربراہ کس قانون کے تحت یہ کام کرسکتا ہے؟ ’فوج کا سربراہ گریڈ اکیس میں ہوتا ہے، اس طرح وہ بائیس گریڈ کے سیکریٹری دفاع کے ماتحت ہوتا ہے جو کہ رولز کے مطابق فوج کے سربراہ کی تعیناتی اور برطرفی کے حکمنامے جاری کرنے کا اختیار کرتا ہے، تو اس طرح ایک گریڈ اکیس کا افسر کیسے اتنے سارے ججوں کو کلہاڑی کے وار سے برطرف کر دیتا ہے جس سے ساری قوم کا اعتماد ہی متزلزل ہوجائے؟‘ وہ ججوں کی بحالی کے حوالے سے زیادہ تر سیاسی جماعتوں کے موقف سے مطمئن نظر آئے سوائے دو سیاسی جماعتوں کے، جن کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ ’جب ایک مرتبہ آپ اپنی رائے کو پی سی او اور اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ نتھی کردیتے ہیں تو پھر ججوں اور عدلیہ کی بحالی تو غیر اہم ہوجاتی ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ان دو سیاسی جماعتوں کے رہنما ایک سے زیادہ مرتبہ اپنے ان خدشات کا برملا اظہار کرچکے ہیں کہ آئندہ عام انتخابات آزادانہ بنیادوں پر نہیں ہوں گے بلکہ ان میں دھاندلی کی جائے گی۔ ’تو پھر بھی ان کا ان حالات میں انتخابات میں حصہ لینا خودکشی سے کم نہ ہوگا۔‘ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی بیداری کی وجہ سے حکومت عدلیہ سے ناراض ہوگئی اور پھر بعد میں نو مارچ کو شروع ہونے والی مہم کو کچلنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی جس میں حکومت کے ساتھ چند ’سازشی اور مفاد پرست عناصر‘ بھی شامل ہوگئے۔ وہ اس بات میں مکمل یقین رکھتے ہیں کہ ملک میں عدلیہ کی بیداری کے اصل محرکات کی وجہ ریاست کے دیگر اداروں کی جانب سے آئین اور قانون کے تحت اپنے فرائض سرانجام دینے میں ناکامی تھی۔ ’اگر عدلیہ کی بیداری کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوگا کہ امریکہ سے لے کر ہندوستان تک جب ریاست کے دیگر اداروں نے آئین اور قانون کے تحت اپنا کام کرنا چھوڑ دیا تو پھر ایسے میں جج آگے بڑھے اور انہوں نے باقی اداروں سے آئین میں درج ان کے کردار کے مطابق ان سے کام کرایا۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||