عبادالحق بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور |  |
 | | | ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد گرفتار وکلاء میں اعتراز احسن بھی شامل ہیں |
اٹارنی جنرل آف پاکستان جسٹس ریٹائرڈ ملک محمد قیوم نے جمعرات کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نظر بند صدر اعتزاز احسن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے۔ اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات نجی نوعیت کی تھی اور اس دوران اعتزاز احسن کو حکومت کا کوئی پیغام نہیں پہنچایا گیا۔ ملک محمد قیوم پہلے حکومتی نمائندے ہیں جنہوں نے پاکستان بار کونسل کی طرف سے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کا بائیکاٹ ختم کرنے کے بعد کسی وکلاء تنظم کے نمائندے سے ملاقات کی ہے۔ وکلاء تنظیم پاکستان بارکونسل نے تیرہ جنوری کو اکثریتی ارکان کی رائے سے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کا بائیکاٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان بارکونسل کے فیصلے سے بعض وکلاء تنظیموں نے اختلاف کیا ہے  | | | اعتزاز احسن کو حکومت کا کوئی پیغام نہیں پہنچایا گیا: ملک قیوم | اور ان کی طرف سے اس فیصلے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے فوراً بعد گرفتار کیے گئے وکلاء میں اعتراز احسن بھی شامل ہیں۔ ان کو اسلام آباد سے اُس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اپنے گھر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ حکومت پنجاب نےعیدالاضحٰی کےموقع پر اعتزاز احسن کی نظربندی تین روز کے لیے معطل کی تھی، لیکن صرف چوبیس گھنٹوں کے بعد ہی یہ رعایت واپس لے لی گئی تھی۔ نتیجتاً اعتزاز احسن کو لاہور اور راولپنڈی کے درمیان چکری کے مقام پر دوبارہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ |